
کے سی وینوگوپال، ویڈیو گریب
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے گزشتہ بدھ اور جمعرات کو اتراکھنڈ کانگریس کمیٹی کے مختلف رہنماؤں سے ملاقات کر کے کئی اہم سیاسی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے اس تعلق سے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے یہاں تمام لیڈران پوری مضبوطی کے ساتھ انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں اور ہم کامیاب ہوں گے۔ گزشتہ روز ہم نے پولیٹیکل افیئرز کمیٹی کی میٹنگ کی۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدور کے ساتھ 4 گھنٹے تک اجلاس جاری رہا۔ اس کے علاوہ موجودہ اور سابق اراکین اسمبلی کے ساتھ بھی ملاقات کی گئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اتراکھنڈ کی عوام بی جے پی حکومت سے مایوس اور غصے میں ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ریاست میں حکومت تبدیل ہونی چاہیے، اور ہم عوام کے ساتھ مل کر یہاں تبدیلی لائیں گے۔‘‘
میڈیا اہلکاروں کے سامنے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ کا نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہے اور نقل مکانی پر مجبور ہو رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ گزشتہ 10 برسوں میں بی جے پی حکومت نے بے روزگاری کم کرنے اور نقل مکانی روکنے کے لیے کیا کیا؟ بدعنوانی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خود بی جے پی کے اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ یہاں کمیشن لیا جاتا ہے اور وزیر اعلیٰ خود اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ انہی تمام مسائل کے ساتھ کانگریس پارٹی انتخابات میں اترے گی، کیونکہ ہم یہاں کی عوام اور نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’کانگریس پارٹی اتراکھنڈ اسمبلی انتخاب متحد ہو کر، بغیر کسی اختلاف کے لڑے گی اور ہم فیصلہ کن کامیابی حاصل کریں گے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی قیادت میں ہم ریاست میں آئندہ انتخاب جیتیں گے۔‘‘
کانگریس جنرل سکریٹری نے نیٹ پیپر لیک اور سی بی ایس ای امتحان میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں پر بھی اپنی بات رکھی۔ انھوں نے امتحانات میں بے ضابطگی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ’’طلبا کی آواز بلند کرنے کے لیے حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی 17 جولائی کو دہرادون آ رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’بڑے پیمانے پر پرچہ لیک کے واقعات ہوئے ہیں۔ اتراکھنڈ اب پیپر لیک گھوٹالوں کے لیے جانا جانے لگا ہے۔ اس لیے کانگریس پارٹی آئندہ انتخابات میں اس مسئلے کو بڑے پیمانے پر اٹھائے گی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ہم ایک منشور کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں، جو پوری ریاست کا دورہ کرے گی اور کسانوں، خواتین، طلبا سمیت عام لوگوں سے مسائل جمع کرے گی۔ اس کے بعد ہم اتراکھنڈ کے لیے ایک مضبوط اور جامع انتخابی منشور تیار کریں گے۔‘‘
رام مندر میں نذرانہ چوری سے متعلق بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ’’رام مندر میں بڑی چوری ہوئی ہے۔ نذرانے کی اس چوری کا ذمہ دار کون ہے؟ رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل ہندوستان کے وزیر اعظم کی نگرانی میں کی گئی تھی۔ لاکھوں لوگوں نے اپنی عقیدت کی وجہ سے مندر کے لیے چندہ دیا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’گزشتہ 20 برسوں سے وشو ہندو پریشد، بی جے پی اور آر ایس ایس رام مندر کے نام پر لوگوں سے چندہ جمع کر رہے ہیں۔ اب جبکہ بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آیا ہے تو انھیں جوابدہ ہونا چاہیے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے پی ایم مودی پر عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے اور خاموشی اختیار کر لینے کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’’وزیر اعظم کانگریس اور ہندوستان کی عوام کی جانب سے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟ وزیر اعظم اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ آپ (رام مندر نذرانہ چوری معاملہ پر) سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا حکم کیوں نہیں دیتے؟‘‘ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مودی حکومت ان لوگوں کو بچانا چاہتی ہے جنہوں نے یہ چوری کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔