قومی خبریں

دہلی کے گاندھی نگر میں 4 منزلہ عمارت جھکی، نوٹس جاری، احتیاطاً عمارت خالی کرائی گئی

فی الحال احتیاطی طور پر پوری عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ حفاظتی نقطہ نظر سے عمارت کے آس پاس گھیرابندی کر دی گئی ہے، تاکہ کوئی شخص اس کے قریب نہ جا سکے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

مشرقی دہلی کے گاندھی نگر علاقے میں 4 منزلہ عمارت کے اچانک جھکنے سے ہلچل مچ گئی۔ عمارت کی حالت دیکھ کر آس پاس رہنے والے لوگوں میں خوف کا ماحول ہے۔ فی الحال احتیاطی طور پر پوری عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ حفاظتی نقطہ نظر سے عمارت کے آس پاس گھیرابندی کر دی گئی ہے، تاکہ کوئی شخص اس کے قریب نہ جا سکے۔ معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد ایم سی ڈی کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور عمارت کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مزید کارروائی شروع کر دی۔ فی الحال عمارت کو خالی رکھا گیا ہے اور آس پاس کے لوگوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

اس معاملے میں سابق میئر شیام سندر اگروال نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ 2 مکانوں کے درمیان دراڑ آ گئی ہے۔ ایک مکان بھی ہلکا سا جھک گیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے افسران، پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچیں۔ افسران نے جانچ میں پایا کہ عمارت کے گرنے کا خطرہ ہے، اس لیے انہوں نے اسے خالی کرا لیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کو بروقت خالی کرایا جا چکا ہے اور اس کے مالک کو ایک نوٹس بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمارت کبھی بھی گر سکتی ہے اور کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔

دہلی میں غیر قانونی تعمیرات اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف کارروائی کو لے کر انہوں نے کہا کہ یہ تاخیر سے اٹھایا گیا صحیح قدم ہے۔ غیر قانونی تعمیرات اور خطرناک عمارتوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ سابق میئر نے کہا کہ ’’سوال یہ ہے کہ 6-5 منزلہ مکان ایک دن میں نہیں بنتا۔ لیکن جب یہ بن کر تیار ہو رہے تھے، تب میونسپل کارپوریشن کے افسران کہاں سوئے ہوئے تھے۔ پانچویں اور چھٹی منزل کے مکان افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے ہی بنے ہیں۔ اس لیے ایسی عمارتوں کے خلاف کارروائی ہونی ہی چاہیے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ 6 ستمبر کو دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک عمارت گرنے کے باعث کم از کم 7 افراد کی موت ہو گئی تھی۔ اس عمارت کا استعمال لڑکوں کے پی جی کے طور پر ہو رہا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔