قومی خبریں

جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی میٹنگ میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن بل‘ کو آئینی قرار دیا

سابق سی جے آئی جسٹس بی آر گوئی کا کہنا ہے کہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ سے انتخابی ڈھانچہ اور ووٹرس کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ پارلیمنٹ کو ایسی ترمیمات لانے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایک ملک، ایک انتخاب</p></div>

ایک ملک، ایک انتخاب

 

’ون نیشن، ون الیکشن‘ یعنی ایک ملک اور ایک انتخاب سے متعلق بل پر جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کی جمعرات کو اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف واضح لفظوں میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن بل‘ آئین کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے وفاقی ڈھانچے اور جمہوری نظام پر کوئی اثر پڑے گا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ سے صرف انتخابات کرانے کے طریقۂ کار میں ایک بار تبدیلی ہوگی۔

Published: undefined

سابق سی جے آئی جسٹس بی آر گوئی کا کہنا ہے کہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ سے انتخابی ڈھانچہ اور ووٹرس کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ پارلیمنٹ کو ایسی ترمیمات لانے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک جیسے التزامات برقرار رہیں گے اور حکومت کی جوابدہی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بی آر گوئی نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کو آئینی طور پر قابل عمل اور ممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں 1967 تک لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوا کرتے تھے۔

Published: undefined

اس سے قبل دسمبر میں منعقدہ جے پی سی کی میٹنگ میں ماہرین نے معیشت پر اس کے اثرات کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا تھا۔ آئی ایم ایف کی سابق ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ نے کہا تھا کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ سے انتخابات کی تعداد کم ہوگی، جس کا معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ میکرو اکنامک نقطۂ نظر سے یہ ایک مثبت اصلاح ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے انتخابی برسوں میں نجی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور اس میں تقریباً 5 فیصد تک کمی آتی ہے، جس کی مکمل تلافی بعد کے برسوں میں نہیں ہو پاتی۔ انتخابات کی تعداد کم ہونے سے غیر یقینی صورتحال میں کمی آئے گی اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ ایک ساتھ انتخابات ہونے سے سرکاری اخراجات کی کارکردگی اور ساخت دونوں میں بہتری آ سکتی ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ ایک ایسی تجویز ہے جس کے تحت ملک میں لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کا مشورہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ اس سے انتخابی اخراجات میں کمی آ سکتی ہے۔ 2 ستمبر 2023 کو اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ اس پر فعال طور پر کام کیا جا سکے۔ اس کمیٹی کا چیئرمین سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی رپورٹ بھی پیش کر دی ہے جس میں ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کی حمایت کی گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined