قومی خبریں

اکھلیش یادو کی بیٹی کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ کرنے والا مدھیہ پردیش میں گرفتار، ضمانت پر رہا

مدھیہ پردیش میں پولیس نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی بیٹی کے بارے میں سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

پولیس نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کی بیٹی ادیتی یادو کے بارے میں سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ سائبر تحقیقات اور الیکٹرانک شواہد کے تجزیہ کے بعد مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع کے رہنے والے ناگیشور سنگھ بگھیل کو حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

Published: undefined

یہ معاملہ سماج وادی پارٹی ایڈوکیٹ ایسوسی ایشن کے قومی سکریٹری پروین یادو کی جانب سے 11 جون کو سائبر پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت کے بعد سامنے آیا ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ افراد نے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے، ایک مورف شدہ تصویر شیئر کی اور اس کے ساتھ نامناسب تبصرے پوسٹ کیے۔ شکایت کی بنیاد پر، بھرت پٹیل، ناگیشور سنگھ بگھیل، اور ونود کمار کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

Published: undefined

کیس کے اندراج کے بعد کرائم برانچ اور سائبر پولیس نے متعلقہ سوشل میڈیا پروفائلز کی چھان بین شروع کردی۔ ڈیجیٹل ٹریکنگ اور تکنیکی تجزیہ سے ناگیشور سنگھ بگھیل کی شناخت ہوئی جس کے بعد پولیس ٹیم نے اسے ریوا میں گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق عدالت نے سماعت کے بعد انہیں ضمانت دے دی۔

Published: undefined

تفتیشی ایجنسیوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک اور ملزم بھرت پٹیل بیرون ملک سے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلا رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس کا مقام پنسلوانیا، امریکہ میں معلوم ہوا۔ تیسرا ملزم ونود کمار مبینہ طور پر اتر پردیش کے جونپور ضلع کا رہنے والا ہے اور روزی روٹی کے لیے آٹو رکشہ چلاتا ہے۔ پولیس دونوں ملزمان کے خلاف مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined