قومی خبریں

اڈیشہ میں سیلاب کی صورتحال سنگین، 2.7 لاکھ سے زائد افراد متاثر، 95206 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر (ایس ای او سی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 6 اضلاع، 52 بلاکس، 227 گرام پنچایتیں اور 503 گاؤں متاثر ہوئے ہیں، جس سے تقریباً 2,70,212 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>اڈیشہ میں سیلاب کی صورتحال، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

اڈیشہ میں سیلاب کی صورتحال، تصویر/آئی اے این ایس

 

اڈیشہ میں سیلاب کی صورتحال اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔ ریاست کے بعض اہم ندیوں میں پانی کی سطح کم ہونے لگی ہے، لیکن کئی علاقے اب بھی زیر آب ہیں اور ہزاروں افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ اس دوران کم دباؤ کے باعث مسلسل ہونے والی بارش سے ریاست کے کئی حصوں میں حالات خراب ہیں، جس کے نتیجے میں ہفتہ کو کئی مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔ خصوصی راحت کمشنر (ایس آر سی) کے دفتر کے تحت ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر (ایس ای او سی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 6 اضلاع، 52 بلاکس، 227 گرام پنچایتیں اور 503 گاؤں متاثر ہوئے ہیں، جس سے تقریباً 2,70,212 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

افسران نے بتایا کہ متعلقہ ضلعی ایمرجنسی آپریشن سنٹرز (ڈی ای او سی) کے ساتھ مل کر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جس میں میوربھنج، بالیشور، بھدرک، جاج پور اور کیندوجھار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ایس ای او سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک 95,206 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور انہیں 226 شیلٹر ہومز میں رکھا گیا ہے۔ یہاں صاف اور پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی، صفائی، روشنی اور طبی سہولیات سمیت ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، بچاؤ، راحت اور ہنگامی کارروائیوں میں مدد کے لیے مجموعی طور پر 118 رسپانس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں اڈیشہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس (او ڈی آر اے ایف) کی 36 ٹیمیں، این ڈی آر ایف کی 7 ٹیمیں، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی 35 ٹیمیں اور پولیس، سول ڈیفنس و مقامی ٹیموں کی 40 ٹیمیں شامل ہیں۔ مزید ریسپانس ٹیموں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے اور ضرورت کے مطابق انہیں تعینات کیا جا رہا ہے۔ ایس ای او سی کے مطابق اس وقت صحت کی خدمات بھی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 62 طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جبکہ ادویات، او آر ایس، آئی وی فلوئڈ اور سانپ کے کاٹنے کی دوا کا وافر ذخیرہ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 31 ویٹرنری ٹیمیں/ریپڈ رسپانس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور 22 ویٹرنری کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ اب تک 51 جانوروں کا علاج یا ٹیکہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ مویشیوں اور متاثرہ برادریوں کی مدد کے لیے 357.2 میٹرک ٹن مویشیوں کی خوراک فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رسپانس ٹیمیں اور متعلقہ محکمے 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں تاکہ ضروری راحت، طبی امداد، پینے کا پانی، خوراک اور دیگر ضروری اشیا متاثرہ لوگوں تک بلا تاخیر پہنچائی جا سکیں۔ ایس آر سی نے کہا کہ پوری صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام متعلقہ انتظامیہ و محکموں کو کسی بھی نئی ضرورت سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ریاست کا کوآرڈینیٹڈ رسپانس سسٹم لوگوں کی جان بچانے، متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے اور سب کو محفوظ اور ہموار طریقے سے معمول کی زندگی کی جانب واپس لانے پر مرکوز ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔