قومی خبریں

صفدرجنگ اسپتال میں پہلا ’روبوٹک نی-ریپلیسمنٹ‘ کامیاب

آرتھوپیڈک ٹیم کی قیادت ڈاکٹر بھگوتی پرساد شرما نے کی جبکہ ان کے ساتھ ڈاکٹر دھروے مینی اور ڈاکٹر کارتک یادو تھے۔ اینستھیزیا ٹیم کی قیادت ڈاکٹر سشیل گوریا نے کی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

دہلی میں وردھمان مہاویر میڈیکل کالج (وی ایم ایم سی) اور صفدرجنگ اسپتال کے سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف آرتھوپیڈکس (سی آئی او) نے جدید علاج کے شعبے نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسپتال نے 22 اگست کو اپنا پہلا روبوٹ اسسٹڈ ٹوٹل نی ریپلیسمنٹ (ٹی کے آر، گھٹنے کی تبدیلی) کامیابی کے ساتھ کیا۔ سی آئی او میں روبوٹ-اسسٹڈ آرتھوپیڈک سرجری کا آغاز وی ایم ایم سی اور صفدرجنگ اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کویتا شرما کی قیادت، حمایت اور حوصلہ افزائی سے ہوا ہے۔ اس اقدام سے سرکاری صحت کے نظام میں جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی آرتھوپیڈک دیکھ بھال کو مزید مضبوطی ملے گی۔

یہ سرجری سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف آرتھوپیڈکس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سمت سورل کی رہنمائی میں کی گئی۔ سرجری کرنے والی ٹیم کی قیادت کنسلٹنٹ پروفیسر اور یونٹ ہیڈ ڈاکٹر بھگوتی پرساد شرما نے کی۔ یہ تاریخی سرجری ’آیوشمان بھارت‘ منصوبہ کے تحت مکمل طور پر مفت کی گئی۔ یہ آپریشن اس مرکزی سرکاری اسپتال میں 75 سالہ ایک معاشی طور پر کمزور مرد مریض کا کیا گیا۔

آرتھوپیڈک ٹیم کی قیادت ڈاکٹر بھگوتی پرساد شرما نے کی جبکہ ان کے ساتھ ڈاکٹر دھروے مینی اور ڈاکٹر کارتک یادو تھے۔ اینستھیزیا ٹیم کی قیادت ڈاکٹر سشیل گوریا نے کی۔ آپریشن تھیٹر کی نرسنگ اسٹاف سسٹر ریکھا اور ریتیکا اور ٹیکنیکل اسٹاف وجیندر کی ٹیم نے بھی ضروری تعاون فراہم کیا۔ نئے روبوٹک سسٹم کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپ گریڈیبل پلیٹ فارم ہے، جس سے سی آئی او میں روبوٹ اسسٹڈ آرتھوپیڈک سرجری کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کی گنجائش ہے۔ یہ پلیٹ فارم ٹوٹل نی ریپلیسمنٹ، پارشل نی ریپلیسمنٹ اور ہپ جوائنٹ ریپلیسمنٹ جیسی سرجریوں میں مدد کر سکتا ہے۔

مستقبل میں ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر اپ گریڈ کے ساتھ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے روبوٹ اسسٹڈ اسپائن سرجری بھی ممکن ہو سکے گی، جس سے مریضوں کے لیے جدید جراحی خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔ روبوٹ اسسٹڈ سرجری سے آپریشن سے پہلے کی منصوبہ بندی اور سرجری کے دوران درستگی میں مدد ملتی ہے، خاص طور پر امپلانٹ کی پوزیشن اور الائنمنٹ کے معاملے میں۔ سی آئی او میں اس ٹیکنالوجی کی آمد سے مستقبل میں مریضوں کے لیے جدید آرتھوپیڈک سرجری تک رسائی بڑھے گی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مرکزی سرکاری اسپتال میں ’آیوشمان بھارت‘ کے تحت اس ٹیکنالوجی کی دستیابی سے معاشی طور پر کمزور طبقے کے مریضوں کو بھی جدید روبوٹک آرتھوپیڈک دیکھ بھال مل سکے گی، جس سے یکساں صحت سہولیات کے نظام کو مزید مضبوطی ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ پہلے روبوٹ اسسٹڈ ٹی کے آر کی کامیابی وی ایم ایم سی اور صفدرجنگ اسپتال میں ٹیکنالوجی سے لیس آرتھوپیڈک خدمات کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔