قومی خبریں

اتر پردیش میں ایس آئی آر کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جاری، 2.05 کروڑ ووٹرس کے نام حذف

اکتوبر میں ایس آئی آر کی جب ابتدا ہوئی تھی تو اتر پردیش میں 15.44 کروڑ ووٹرس تھے۔ جنوری میں ایس آئی آر کے بعد جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 12.55 کروڑ ووٹرس بچے، اور اب یہ تعداد 13.39 کروڑ ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایس آئی آر (علامتی تصویر، اے آئی)</p></div>

ایس آئی آر (علامتی تصویر، اے آئی)

 

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی ہے۔ جاری لسٹ کے مطابق 2.05 کروڑ ووٹرس کے نام مختلف بنیادوں پر حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس بڑی تعداد میں ووٹرس کا نام حذف ہونا فکر کا باعث ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ووٹرس کی چھٹنی کا یہ نمبر دہلی میں ووٹرس کی مجموعی تعداد سے بھی تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ دہلی اسمبلی کے لیے 2025 کے انتخاب میں جاری ووٹر لسٹ میں 1.55 کروڑ ووٹرس تھے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ایس آئی آر سے قبل اتر پردیش میں 15.44 کروڑ ووٹرس تھے، جن کی تعداد اب گھٹ کر 13.39 کروڑ رہ گئی ہے۔ اب اتر پردیش میں 2027 کے ابتدا میں ہونے والے اسمبلی انتخاب سے قبل ووٹر لسٹ میں وسیع ترمیم و اضافہ کے سیاسی اثرات پر مباحث شروع ہو گئے۔ اپوزیشن پارٹیاں پہلے ہی اندیشہ ظاہر کر رہے تھے کہ بڑی تعداد میں ووٹرس کے نام کاٹے جا رہے ہیں، اور الیکشن کمیشن پر کچھ سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے۔ اب جبکہ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہو گیا ہے، تو اپوزیشن پارٹیوں کا ناراض ہونا لازمی ہے۔

Published: undefined

بہرحال، اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر (سی ای او) نے جمعہ کو لکھنؤ میں پریس کانفرنس کے دوران ایس آئی آر سے متعلق اعداد و شمار شیئر کیے اور حتمی ووٹر لسٹ کے بارے میں ضروری جانکاریاں فراہم کیں۔ اکتوبر میں ایس آئی آر کی جب ابتدا ہوئی تھی تو اتر پردیش میں 15.44 کروڑ ووٹرس تھے۔ جنوری میں ایس آئی آر کے بعد جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 12.55 کروڑ ووٹرس بچے تھے۔ یعنی 2.89 کروڑ ووٹرس کے نام حذف ہو گئے تھے۔ 2.89 کروڑ لوگوں میں 2.17 کروڑ لوگ دوسری جگہ منتقل ہو گئے، 46 لاکھ لوگ مردہ پائے گئے اور 25.47 لاکھ لوگ ایک سے زیادہ بوتھ کی ووٹر لسٹ میں درج پائے گئے تھے۔ آج جاری حتمی لسٹ میں 13.39 کروڑ ووٹرس ہیں۔ یعنی لسٹ سے باہر کیے گئے کئی ووٹرس کے اعتراضات پر سماعت کے بعد انھیں حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مقابلے حتمی ووٹر لسٹ میں ووٹرس کی تعداد تقریباً 84 لاکھ بڑھی ہے۔

Published: undefined

الیکٹورل افسران کے ذریعہ جاری اعداد و شمار میں ڈرافٹ اور فائنل ووٹر لسٹ کے درمیان مرد، خواتین، تیسری جنس اور پہلی بار ووٹر بنے لوگوں کی تعداد میں خاصہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ لسٹ میں مرد ووٹر 6.88 کروڑ تھے، جو فائنل لسٹ میں 7.30 کروڑ ہو گئے ہیں۔ خواتین ووٹر بھی 5.67 کروڑ سے بڑھ کر 6.09 کروڑ ہو گئی ہیں۔ تیسری جنس کے ووٹرس کی تعداد 4119 سے بڑھ کر 4206 تک پہنچ گئی ہے۔ 19-18 سال کے ووٹرس، یعنی پہلی بار ووٹر بننے جا رہے نوجوانوں کی تعداد 3.33 لاکھ سے بڑھ کر 17.83 لاکھ ہو گئی ہے۔

Published: undefined

الیکشن کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ وہ 5 اسمبلی نشستیں اور اضلاع کون کون سی ہیں، جہاں ووٹرس کی مجموعی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ مجموعی ووٹر بڑھنے والے اضلاع میں سب سے اوپر پریاگ راج ہے، جہاں 3.29 لاکھ ووٹرس بڑھے ہیں۔ اسی طرح لکھنؤ میں 2.85 لاکھ، بریلی میں 2.57 لاکھ، غازی آباد میں 2.43 لاکھ اور جونپور میں 2.37 لاکھ ووٹرس بڑھے ہیں۔ اسمبلی نشستوں کی بات کریں تو صاحب آباد سیٹ پر 82 ہزار 898، جونپور میں 56 ہزار 118، لکھنؤ مغرب میں 54 ہزار 822، لونی میں 53 ہزار 679 اور فیروز آباد میں 47 ہزار 757 ووٹرس بڑھے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined