
برج بھوشن شرن سنگھ / تصویر: آئی اے این ایس
نئی دہلی: ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کے معاملہ میں خاتون پہلوانوں نے راؤز ایونیو کورٹ کے فیصلے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ نے گزشتہ 3 اگست کو برج بھوشن شرن سنگھ کو اس معاملہ میں بری کر دیا تھا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق چار خاتون پہلوانوں نے سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ اپیل میں معاملہ کے شریک ملزم ونود تومر کو بری کیے جانے کے حکم کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ خاتون پہلوانوں کی اپیل پر راؤز ایونیو کورٹ میں ہفتہ کو سماعت ہونے کا امکان ہے۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے اور اس میں دستیاب شواہد کا غلط اور منتخب انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فیصلہ قیاس اور مفروضوں پر مبنی ہے اور قائم شدہ قانونی اصولوں کا درست طور پر اطلاق نہیں کیا گیا۔
خاتون پہلوانوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیصلے میں متاثرہ خواتین کے رویے کا جائزہ لیتے وقت قدیم اور دقیانوسی تصورات کو بنیاد بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے شواہد اور حالات کا مکمل طور پر جائزہ لیے بغیر بعض پہلوؤں کو اہمیت دی۔
برج بھوشن شرن سنگھ ہمیشہ سے خاتون پہلوانوں کی جانب سے عائد کیے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ راؤز ایونیو کورٹ سے بری ہونے کے بعد انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیصلے کو اپنے لیے بڑی راحت قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے لوگوں کے لیے بھی یہ راحت کی بات ہے جن پر جھوٹے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان پر الزام لگانے والی خواتین اولمپک میڈلسٹ تھیں اور معاملے میں بڑے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں۔ برج بھوشن نے کہا تھا کہ انہوں نے خود کو کبھی مجرم نہیں سمجھا اور انہیں امید ہے کہ ان کا معاملہ غلط الزامات کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لیے ایک مثال بنے گا۔
برج بھوشن شرن سنگھ اور خاتون پہلوانوں کے درمیان یہ تنازعہ 2023 میں سامنے آیا تھا۔ متعدد معروف خاتون پہلوانوں نے الزام عائد کیا تھا کہ 2016 سے 2022 کے درمیان قومی اور بین الاقوامی مقابلوں، تربیتی کیمپوں، کشتی فیڈریشن کے دفتر اور دیگر مقامات پر ان کے ساتھ نامناسب برتاؤ اور جنسی ہراسانی کی گئی۔ اب خاتون پہلوانوں کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیے جانے کے بعد معاملہ ایک بار پھر قانونی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔