
تصویر قومی آواز / وپن
نئی دہلی: ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف کسان تنظیموں اور مختلف سماجی تنظیموں نے جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سنیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) اور ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ پلیٹ فارم نے اس احتجاج کے ذریعے ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے لوگوں کے حق رائے دہی کی بحالی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
منتظمین کے مطابق، ملک بھر میں ضلع اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کے علاوہ ریاستی دارالحکومتوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ دہلی میں ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ نے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
ایس کے ایم نے، جس نے 2020-21 میں مرکز کے اب منسوخ کیے جا چکے تین زرعی قوانین کے خلاف کسان تحریک کی قیادت کی تھی، کہا ہے کہ اس سے وابستہ تنظیموں کے نمائندے ضلع مجسٹریٹ اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے ذریعے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو میمورنڈم پیش کریں گے۔
میمورنڈم میں ایس آئی آر کے عمل کو منسوخ کرنے اور ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے 13.41 کروڑ شہریوں کے حق رائے دہی کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
کسان تنظیم نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون میں ترمیم کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔ اس کے تحت تقرری کے لیے تشکیل دی گئی سلیکشن کمیٹی میں ہندوستان کے چیف جسٹس کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ متناسب نمائندگی کے نظام اور انتخابات کے لیے سرکاری فنڈنگ سمیت وسیع انتخابی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
ایس کے ایم نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت احتجاجی مظاہروں کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو کسان مظاہرین کے تحفظ کے لیے آگے آئیں گے۔ تنظیم نے خاتون طلبہ اور صحافیوں سمیت مظاہرین کے خلاف پولیس کی زیادتیوں پر کارروائی کرنے اور جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کے حکم کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ 300 سے زیادہ تنظیمیں اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہو چکی ہیں اور 25 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں احتجاج کی تیاریاں کی گئی ہیں۔
پلیٹ فارم کے مطابق، دہلی میں مظاہرین جمعہ کو دوپہر ایک بجے گردوارہ بنگلہ صاحب، گول ڈاک خانہ اور گول مارکیٹ کے قریب جمع ہوں گے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالا جائے گا، جہاں ’جن سنسد‘ منعقد کی جائے گی۔
تنظیم نے کہا ہے کہ مظاہرین قومی پرچم لے کر مارچ کریں گے۔ اگر پولیس نے انہیں روکا تو وہ اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرنے کے لیے پُرامن اجتماع کریں گے۔ پلیٹ فارم نے واضح کیا ہے کہ ایس آئی آر کی منسوخی، ووٹنگ کا حق بحال کرنے اور انتخابی کمشنروں سے متعلق قانون میں ترمیم کے مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔