
گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
’’یہاں رات 8 بجے سے پاور کٹ شروع ہوتا ہے، جو صبح 6 بجے تک رہتا ہے۔ اس سے ہماری رات کی پروڈکٹیویٹی ختم ہو جاتی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے مزدوروں کو بھی آرام نہیں ملتا۔ بجلی کٹنے سے ہمارا بہت نقصان ہو رہا ہے۔‘‘ یہ بیان پنجاب میں موجود کارخانہ کے ایک مالک جسکیرت کا ہے، جو روزانہ گھنٹوں بجلی کٹنے سے پریشان ہیں۔ ان کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے اور پنجاب کی عآپ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال پر بھی حملہ کیا ہے۔
کانگریس نے پنجاب میں گھنٹوں بجلی تخفیف سے متعلق کئی سوشل میڈیا پوسٹس کی ہیں، جن میں عوام کے مسائل بھی سامنے رکھے گئے ہیں اور عآپ حکومت کی ناکامی کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’عآپ حکومت نے پنجاب میں 24 گھنٹے بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کے اقتدار میں آتے ہی پورا پنجاب بجلی کے لیے ترس گیا ہے۔‘‘ پارٹی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’اروند کیجریوال نے پ نجاب کو سہاؤنے خواب دکھائے، بڑی بڑی باتیں کیں، لیکن زمین پر ڈھیلے بھر کا کام نہیں کیا۔ کیجریوال اپنے استاد نریندر مودی کی طرح ہی جھوٹ بولنے اور ہوابازی میں ماہر ہیں، یہ پھر ثابت ہو گیا۔‘‘
کانگریس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں طنز کے تیر بھی چلائے ہیں۔ ایک پوسٹ میں اس نے کیپشن لگایا ہے ’’فرضیوال کے فرضی وعدوں کی پول کھول۔‘‘ اس پوسٹ میں ایک طرف اروند کیجریوال کے ذریعہ 8 اکتوبر 2025 کو دیا گیا وہ بیان دکھایا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں اگلی گرمیوں میں پاور کٹ نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف پنجاب کے کچھ کاروباریوں کا بیان ویڈیو میں پیش کیا گیا ہے، جو بتا رہے ہیں کہ رات 8 بجے سے 12 بجے تک، اور کبھی کبھی رات 2 بجے تک، حتیٰ کہ صبح 6 بجے تک بھی بجلی نہیں آتی۔
کانگریس نے ایک ویڈیو ایسی بھی پوسٹ کی ہے جس میں کچھ صنعت کار پنجاب کی عآپ حکومت کے خلاف سڑک پر اتر کر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ صنعت کار لدھیانہ میں مظاہرہ کے دوران کہہ رہے ہیں کہ ’’اگر 24 گھنٹے میں 16 سے 17 گھنٹے بجلی نہیں آئے گی، تو انڈسٹری کیسے بچ پائے گی؟‘‘ کانگریس نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پنجاب کے لوگوں نے بجلی تخفیف کے معاملے پر عآپ حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ لوگ سڑکوں پر اتر کر کیجریوال اور عآپ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، بجلی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اپنے جھوٹ اور فریب سے پنجاب کے لوگوں کو ٹھگنے والے ’فرضیوال‘ کو عوام سخت سبق سکھانے والی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔