قومی خبریں

ایل پی جی بحران: فیکٹریاں بند، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کا رش، راجستھان، ممبئی اور گجرات میں حالات سنگین

عام لوگوں کا الزام ہے کہ جو سلنڈر پہلے 900-1000 روپے کا ہوتا تھا وہ اب 2500 سے 3000 روپے میں دیا جارہا ہے۔ اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ انہیں سلنڈر ملے گا۔

<div class="paragraphs"><p>ایل پی جی کی قلت سے متاثر مزدور گجرات سے اپنے اپنے گاؤں لوٹتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

ایل پی جی کی قلت سے متاثر مزدور گجرات سے اپنے اپنے گاؤں لوٹتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

 مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا اثر اب ہندوستان کی کئی ریاستوں میں واضح طور پر نظرآنے لگا ہے جہاں ایل پی جی بحران نے صنعت سے لے کر روزمرہ کی عوامی زندگی تک ہر چیز کو درہم برہم کردیا ہے۔ راجستھان میں کمرشل ایل پی جی کی کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل، ماربل اور کیمیکل فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو کر گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال گجرات، ممبئی مختلف ریاستوں میں دیکھی جارہی ہے۔

Published: undefined

ممبئی میں بھی یہی صورتحال ہے، لوگ ایک سلنڈر کے لیے لمبی لائن میں کھڑے ہیں اور بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے قیمتیں دوگنا اور 3 گنا بڑھ گئی ہیں۔  گجرات کے سورت میں بھی گیس کی شدید قلت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر غیر مقیم مزدوروں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ متاثرہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ جب کھانا پکانا ہی مشکل ہو گیا ہے تو شہر میں رہنا بیکار ہے۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال سنگین بنی ہوئی ہے۔

Published: undefined

خلیجی ممالک میں جنگ کے اثرات راجستھان میں بھی محسوس ہونے لگے ہیں۔ یہاں ٹیکسٹائل سے لے کر سیرامکس اور ماربل تک کی کمپنیوں کو کمرشل ایل پی جی سپلائی کی قلت نے صنعتی سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ہزاروں فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں جس سے مزدوروں کی بڑی تعداد بے روزگار ہو گئی ہے۔ فیکٹریاں بند ہونے سے کووڈ جیسی صورتحال کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جو مزدور بچے بھی ہیں ان کے ایل پی جی گھریلو سلنڈر نہ ملنے سے کھانے پینے کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

Published: undefined

موجودہ حالات سے ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کے کچن بھی متاثر ہوئے ہیں۔ لوگ راشن کے لیے نہیں بلکہ ایک سلنڈر کے لیے لائن میں کھڑے ہیں۔ اس دوران بحران کا فائدہ اٹھانے والے بلیک مارکیٹرز بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ عام لوگوں کا الزام ہے کہ جو سلنڈر پہلے 900-1000 روپے کا ہوتا تھا اب 2500 سے 3000 روپے میں دیا جارہا ہے۔ اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ انہیں سلنڈر ملے گا۔

Published: undefined

نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ کم از کم ان کے گاؤں میں ایندھن، لکڑی اور کھیتی باڑی جیسے ذرائع ہیں، جہاں وہ اپنا گزر بسر کرسکیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی کشیدگی کم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں ایندھن کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ عام لوگوں میں اس بات سے شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگوں کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’’جنگ چاہے کہیں بھی ہو ہمارے گھر کے چولہے بجھنے نہیں چاہئیں‘‘۔ حکومت کو اس بلیک مارکیٹنگ کو روکنے اور متبادل سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

اسی طرح گجرات کے سورت میں ایل پی جی کی شدید قلت دیکھی گئی ہے، بلیک مارکیٹ میں قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پرغیر مقیم مزدوروں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ بہت سے مزدور اپنا پورا سامان برتن، چولہے، بالٹیاں وغیرہ  لے کر ٹرین میں سوار ہوکر گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ نقل مکانی کے لیے مجبور مزدوروں کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت کی وجہ سے کھانا نہیں کھا پارہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined