
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہوئی ریکارڈ ووٹنگ پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ریاست میں 92 فیصد سے زیادہ ووٹنگ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ انہوں نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب سپریم کورٹ اُن 71 افراد کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا، جنہوں نے بنگال انتخابات میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ ان افراد کے نام ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں اور ان کا معاملہ اس وقت اپیلیٹ ٹریبونل کے پاس زیر التوا ہے۔
سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی کی بینچ کو بتایا گیا کہ جمعرات (23 اپریل 2026) کو بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 92 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا، "ایک ہندوستانی شہری کے طور پر لوگوں کو بڑھ چڑھ کر ووٹ دیتے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔"
کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ لینے کے لیے 19 ٹریبونلز قائم کیے ہیں۔ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور ججوں کی سربراہی میں یہ 19 اپیلیٹ ٹریبونلز بنائے گئے ہیں، جو ان افراد کی اپیلیں سن رہے ہیں جن کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو گئے ہیں۔
سماعت کے دوران انتخابی تشدد کے واقعات میں کمی پر بھی سپریم کورٹ نے تبادلۂ خیال کیا۔ جسٹس جوی مالیا باگچی نے کہا کہ تشدد کے واقعات کافی کم رہے۔ اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ سیکورٹی فورسز لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب رہیں، جس سے ووٹنگ میں اضافہ ہوا۔
ٹی ایم سی اور ووٹروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل نے زیادہ ووٹنگ کے حوالے سے دلیل دی کہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ ان کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے جائیں گے، اس لیے بڑی تعداد میں مہاجر مزدور ووٹ ڈالنے پہنچے۔ کلیانی بنرجی کی اس دلیل پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا، "بنرجی صاحب، آج سیاست نہ کیجیے۔"
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined