قومی خبریں

مہنگے شوق اور پُر تعیش زندگی نے پہنچایا جیل، نوئیڈا میں 217 نوجوان کی گرفتاری

نوئیڈا پولیس نے چوری کے معاملوں میں 142 سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں چین اسنیچنگ کے معاملوں میں 48 اور گانجا سمیت دیگر نشہ آور مادے کی اسمگلنگ میں بھی نوجوانوں پر کارروائی کی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

اترپردیش کے ہائی ٹیک شہر کہے جانے والے نوئیڈا میں مہنگا موبائل، برانڈیڈ کپڑے، لکژری موٹر سائیکل اور پُر تعیش زندگی جینے کی خواہش نوجوانوں کو جرائم کی تاریک دنیا کی طرف دھکیل رہی ہے۔ کم عمر میں بغیر محنت پیسے والا بننے اور دوستوں کے درمیان خود کو ہائی فائی دکھانے کے لیے 18 سے 20 سال کے نوجوان اپنا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں قومی راجدھانی سے ملحق گوتم نگر کمشنریٹ پولیس کی طرف سے جاری گزشتہ 2 برسوں کے اعداد و شمار چونکانے والے ہیں جن میں 217 نوجوان جیل جا چکے ہیں۔

Published: undefined

ان میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو اپنی ضروریات اور مہنگے شوق پورے کرنے کے لیے جرائم کی راہ پر نکل پڑے۔ پولیس جانچ میں سامنے آیا ہے کہ کئی نوجوان پُر تعیش زندگی جینے، مہنگے لائف اسٹائل، موبائل، برانڈیڈ کپڑے خریدنے اور موج-مستی کے لیے چوری، چین اسنیچنگ اور نشے کی اسمگلنگ جیسی وارداتوں میں شامل ہوئے۔  

Published: undefined

گوتم بدھ نگر پولیس کمشنریٹ کے مطابق گزشتہ 2 برسوں میں پکڑے گئے 217 نوجوانوں میں سب سے زیادہ ملزم چوری کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے۔ پولیس نے چوری کے معاملوں میں 142 سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ وہیں چین اسنیچنگ کے معاملوں میں 48 اور گانجا سمیت دیگر نشہ آور مادے کی اسمگلنگ میں بھی نوجوانوں پر کارروائی کی گئی۔

Published: undefined

پوچھ گچھ کے دوران کئی ملزمین نے پولیس کو بتایا کہ ان کی کمائی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہے اس کے باوجود وہ مہنگی چیزوں کے شوقین ہیں۔ انہیں ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا اور جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر میں جرائم کی شروعات نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کرسکتی ہے۔ کچھ وقت موج-مستی اور دکھاوے کے لئے اٹھایا گیا غلط قدم نہ صرف نوجوانوں بلکہ ان کے خاندانوں کے لئے بھی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔

Published: undefined

نوئیڈا کے جوائنٹ پولیس کمشنر راجیو نارائن نے سرپرستوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ بچے کس کے ساتھ اُٹھ-بیٹھ رہے ہیں، ان کی ضرورتیں اچانک کیسے بڑھ رہی ہیں اور مہنگی چیزوں کے لیے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے، اس پر خاندان کو نظر رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بر وقت بچوں کو صحیح سمت دی جائے تو انہیں جرائم کی دنیا میں جانے سے روکا جاسکتا ہے۔ پولیس بھی ایسے معاملوں میں لگاتار کارروائی کے ساتھ نوجوانوں کو بیدار کرنے کا کام کررہی ہے تاکہ ان کا مستقبل جرائم کی وجہ سے برباد نہ ہو۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined