
دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو
تصویر: پریس ریلیز
نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں تقریباً 60 نجی اسپتالوں کو رعایتی نرخوں پر زمین اس لیے دی گئی تھی تاکہ معاشی طور پر کمزور لوگوں کو بھی نامی اسپتالوں میں مفت علاج مل سکے۔ ان اسپتالوں میں ان پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (آئی پی ڈی) میں 10 فیصد بیڈ اور او پی ڈی میں 25 فیصد خدمات معاشی طور پر کمزور طبقات کے مریضوں کو دی جانی تھیں، لیکن عآپ اور اب بی جے پی کی دہلی حکومتوں کے دور میں معاشی طور پر کمزور لوگوں کو ان اسپتالوں میں علاج نہ مل پانا ان پارٹیوں کے غریب مخالف چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی ہو یا عآپ، دونوں کے دور حکومت میں دہلی حکومت اور سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود دہلی کے پرائیویٹ اسپتالوں کی جانب سے ای ڈبلیو ایس طبقات کے لوگوں کا مفت علاج نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے دہلی کے 51 پرائیویٹ اسپتالوں کو اپنے 2018 کے حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیوں نہ پرائیویٹ اسپتالوں کو دہلی حکومت کی طرف سے دی جانے والی رعایت واپس لے لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن پرائیویٹ اسپتالوں کو رعایتی نرخوں پر زمین دی گئی تھی، ان میں اپولو، میکس، فورٹس، سر گنگا رام، ہولی فیملی، بترا، مول چند خیراتی رام اور ومہنس جیسے بڑے اسپتال شامل ہیں۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ عآپ اور بی جے پی کی حکومتوں کی خراب انتظامی پالیسی اور بدعنوانی کے باعث افسران کی سست کارکردگی اور پرائیویٹ اسپتالوں میں ای ڈبلیو ایس طبقات کے لوگوں کے طے شدہ تناسب میں مفت علاج کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ نے دہلی کے ہیلتھ سکریٹری کو نوڈل افسر مقرر کر کے حکومت پر نکیل کسنے کا کام کیا ہے، تاکہ ہر غریب کو ضرورت کے مطابق پرائیویٹ اسپتال میں مفت علاج مل سکے۔ معاشی طور پر کمزور طبقات کے لوگوں کا ان پرائیویٹ اسپتالوں میں مفت علاج یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ نے نوڈل افسر کو ان پرائیویٹ اسپتالوں کو توہین عدالت کا نوٹس دینے کی ہدایت دی ہے، جنہیں رعایتی نرخوں پر سرکاری زمین دی گئی تھی اور ڈی ڈی اے، لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس اور ایم سی ڈی کو بھی نوڈل افسر کی معاونت کا حکم دیا ہے۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کی خستہ حال صورتحال ہے جہاں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملہ کے ساتھ ساتھ دواؤں، لیب ٹیسٹ مشینوں اور او ٹی کی شدید کمی ہے۔ اگر بدعنوانی اور حکومت کی ملی بھگت کے باعث یہ پرائیویٹ اسپتال بھی غریبوں کا مفت علاج نہیں کریں گے تو ان غریبوں کا علاج کیسے ہوگا؟ حکومت، سرکاری ایجنسیوں اور پرائیویٹ اسپتالوں کی منمانی کے خلاف سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے صحت سکریٹری کو نوڈل افسر مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پرائیویٹ اسپتالوں میں ای ڈبلیو ایس زمرے کے لوگوں کے مفت علاج میں کوئی کمی پائی جاتی ہے تو اس کے لیے نوڈل افسر کارروائی کے ذمہ دار ہوں گے۔ معاملہ کی اگلی سماعت 24 مارچ کو ہوگی، جس میں متعلقہ تمام حقائق پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں غریب مریضوں کو مفت علاج دلانے کے لیے سرکاری رابطہ افسر مقرر ہونے کے باوجود غریبوں کو علاج کی سہولت نہیں مل رہی ہے۔ دہلی میں 63 اسپتال غریب مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کے پابند ہیں، لیکن 56 اسپتال ہی فعال ہیں۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ 9 جولائی 2018 کے سپریم کورٹ کے حکم میں پرائیویٹ اسپتالوں کو مفت علاج کی ذمہ داری دی گئی تھی اور تمام اسپتالوں کو وقتاً فوقتاً تعمیل کی رپورٹ پیش کرنی تھی، لیکن حکم پر عمل نہ کرتے ہوئے ای ڈبلیو ایس طبقات کے لوگوں کو مفت علاج نہ دینے کے سبب یہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ جنرل کی رپورٹ اور اسپتالوں کے جوابات سے ظاہر ہوا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہیں کی گئی اور ای ڈبلیو ایس لوگوں کو مفت علاج فراہم نہیں کیا گیا۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر دہلی حکومت نے ڈی ڈی اے، ایل اینڈ ڈی او اور ایم سی ڈی سے ای ڈبلیو ایس طبقات کو علاج نہ دینے والے اسپتالوں کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا تھا، لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا، جس کے باعث گزشتہ سال جن 14 اسپتالوں کو نوٹس دیا گیا تھا انہوں نے 25 فیصد او پی ڈی خدمات کے مقابلے میں صرف 1 سے 10 فیصد لوگوں کو ہی علاج فراہم کیا اور ایک اسپتال کو چھوڑ کر باقی سبھی 10 فیصد ای ڈبلیو ایس کوٹہ کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ دہلی کی خستہ حال صحت نظام کے ساتھ پرائیویٹ اسپتال بھی غریب مریضوں کو علاج دینے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined