محمد عرفان اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
جنتر منتر پر طلبا کا مظاہرہ ختم ہو چکا ہے، لیکن مظاہرہ ختم ہوتے ہوتے ایک عام چہرہ سرخیوں میں آ گیا۔ وہ چہرہ محمد عرفان کا ہے، جو 35 سال کے ناخواندہ دہاڑی مزدور ہیں لیکن اپنی ذہانت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ انھیں ہندوستانی آئین کی تمہید زبانی یاد ہے اور ہر طرح کی جانکاری اسمارٹ فون کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا ایک انٹرویو وائرل ہونے کے بعد وہ سرخیوں میں آئے، جس کے بعد لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ان سے ملاقات کی۔ کانگریس نے اس ملاقات کی کچھ تصویریں اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہیں۔
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے راہل گاندھی کی محمد عرفان اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے دہلی کے باشندہ محمد عرفان سے ملاقات کی۔ بڑی ہی صاف گوئی و ایمانداری سے نوجوانوں کا درد اور امیدیں سامنے رکھنے والے عرفان میں آپ کو ہر وہ نوجوان نظر اائے گا جو اس حکومت سے ناامید ہو چکا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’ہمارا عرفان جیسے ہر ایک نوجوان سے وعدہ ہے، ہم ساتھ مل کر ایسا ہندوستان بنائیں گے جہاں محبت، بھائی چارہ، احترام، مساوات اور مواقع کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘
ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد عرفان سے ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے اپنی بہن اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی سے فون پر ان کی بات بھی کرائی تھی۔ اس بات چیت میں پرینکا گاندھی نے راہل کی شادی سے متعلق مذاقیہ انداز میں عرفان سے کچھ باتیں بھی کہیں۔ پرینکا نے کہا کہ وہ راہل گاندھی سے شادی کے لیے کہیں، لیکن عرفان نے بھی مذاق میں کہہ دیا کہ- میں نہیں چاہتا راہل گاندھی شادی کریں۔
گزشتہ شام کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی نے بھی محمد عرفان سے ملاقات کی۔ اس کی کچھ تصویریں انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہیں۔ اس ملاقات کی جانکاری دیتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’آج عرفان بابو شام کو گھر آئے اور گھنٹوں باتیں ہوئیں۔ دن میں راہل گاندھی عرفان کے گھر گئے تھے تو عرفان آج بہت خوش تھے۔ راہل جی سے بات چیت کے خوب قصے سنائے، میری کئی پرانی نظمیں بھی سنائیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’عرفان جیسے نوجوان جمہوریت و آئین کی تمہید کے بولتے ہوئے لفظ ہیں، ان کے ضمیر کی زندہ دلی یوں ہی برقرار رہے۔ ہم نے عرفان کی ہمت کے لیے انھیں اعزاز بخشا اور اہل خانہ کے لیے ڈھیر ساری محبتیں بھیجیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبا تحریک کے دوران پولیس کارروائی کے بعد ’دی للن ٹاپ‘ کے صھافی رجت پانڈے وہاں موجود لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اسی دوران نیلی ٹی شرٹ پہنے محمد عرفان ان کے پاس پہنچے اور بات چیت شروع ہوئی۔ کچھ ہی منٹوں کے اس انٹرویو نے لاکھوں لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ جمہوریت، آئین، مزدوروں کے حقوق اور قابل احترام زندگی پر عرفان نے جس سہل زبان میں اپنے نظریات رکھے، اس نے سوشل میڈیا پر انھیں نئی پہچان دلا دی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر بشکریہ محمد تسلیم