قومی خبریں

ایلون مسک کے اسٹار لنک کو حکومت ہند کی منظوری، اب سیٹلائٹ سے چلے گا انٹرنیٹ

قومی تحفظ سے جڑی شرطوں کو ماننے کے بعد محکمہ ٹیلی مواصلات نے اسٹار لنک کو ’لیٹر آف اِنٹینٹ‘ جاری کر دیا۔ اس کے ساتھ اب اسٹار لنک ہندوستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک نیا انقلاب لانے کے لیے تیار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>

تصویر ’انسٹاگرام‘

 

حکومت ہند نے ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کو ہندوستان میں سیٹلائٹ کے ذریعہ انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کے لیے منظوری دے دی ہے۔ ’آپریشنل گرین سگنل‘ کے ساتھ اب اسٹار لنک ہندوستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک نیا انقلاب لانے کے لیے تیار ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ منظوری حکومت کی نئی سخت شرطیں نافذ ہونے کے ٹھیک ایک دن بعد ملی ہے جس میں ڈاٹا لوکلائزیشن، تحفظاتی جانچ اور مقامی مینوفیکچرنگ جیسی لازمیت شامل ہیں۔

Published: undefined

محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) نے اسٹار لنک کو ’لیٹر آف اِنٹینٹ‘ یعنی شروعاتی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری کمپنی کے ذریعہ قومی تحفظ سے جڑی شرطوں کو ماننے کے بعد جاری کی گئی ہے۔ اسی طرح کا عمل پہلے EutelsatOneWeb اور جیو-SES جیسی کمپنیوں کے ساتھ بھی اپنایا جا چکا ہے۔ اب اسٹار لنک کو ہندوستان میں جی ایم پی سی ایس لائسنس ملنے کے عمل کا آخری مرحلہ پار کرنا ہے لیکن اس سے پہلے کمپنی کو ہندوستان میں اپنے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کا ڈیمو (مظاہرہ) دینا ہوگا۔

Published: undefined

اسٹار لنک کو اب ملک بھر میں ارتھ اسٹیشن گیٹ وے یعنی گراؤنڈ اسٹیشن لگانے ہوں گے، جو سیٹلائٹس کو مقامی نیٹ ورک سے جوڑیں گے۔ ساتھ ہی IN-SPACe (انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھاریٹی سینٹر) سے سیٹلائٹ کانسٹلیشن اور نیٹ ورک صلاحیت کی منظوری بھی لینی ہوگی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ مارچ میں اسٹار لنک کی پیرنٹ کمپنی اسپیس-ایکس نے بھارتی ایئر ٹیل اور جیو کے ساتھ ساجھیداری کی تھی تاکہ ان کے اسٹورس کے ذریعہ اسٹار لنک ڈیوائس بیچی جا سکے اور سروسز اسکول، اسپتال اور بزنس سنٹر تک پہنچائی جا سکے۔

Published: undefined

پہلے جو ٹیلی کام کمپنیاں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی مخالفت کر رہی تھیں، اب وہی اسٹار لنک کے ساتھ پارٹنر شپ کے راستے تلاش کر رہی ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ کنکٹویٹی کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، خاص کر دیہی ہندوستان میں۔ اسٹار لنک کے پاس فی الحال 6750 سے زیادہ سیٹلائٹس کا نیٹ ورک ہے، جو اسے دنیا کیا سب سے بڑا سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس بناتا ہے۔ 2022 میں ہی کمپنی نے جی ایم پی سی ایس لائسنس کے لیے درخواست کر دی تھی۔

Published: undefined

وزیر مملکت برائے مواصلات چندر شیکھر پیمماسانی نے 6 مئی کو کہا تھا کہ اسٹار لنک کی تجویز آخری مرحلے میں ہے۔ اس درمیان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا (TRAI) ابھی سیٹلائٹ اسپیکٹرم کے الاٹمنٹ کی سفارشات پر کام کر رہی ہے۔ جیسے ہی اسپیکٹرم الاٹ ہوگا، کمپنیاں کمرشیل سروس لانچ کر سکیں گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined