
عام آدمی پارٹی کو دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے زبردست جھٹکا لگا ہے کہ انھیں فوری راحت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے دونوں فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت بروز پیر ہوگی۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ انتخابی کمیشن نے جو سفارش صدر جمہوریہ کے پاس بھیجی ہے اس پر کوئی بھی فیصلہ لینے کے لیے صدر جمہوریہ آزاد ہیں۔ بروز پیر انتخابی کمیشن عدالت کے ذریعہ پوچھے گئے سوالات کا جواب داخل کرے گی۔
ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کو عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پورے معاملے پر انتخابی کمیشن سے جواب مانگا ہے اور اس سے پوچھا ہے کہ صدر جمہوریہ کو اس سلسلے میں کوئی مشورہ بھی دیا گیا ہے یا نہیں؟ دس منٹ بعد پھر سے سماعت شروع ہونے کا امکان ہے۔ لیکن سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ ابھی تک کی دلیلوں کو سن کر ایسا نہیں لگتا کہ عآپ کو کسی طرح کی راحت دی جانی چاہیے۔
دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کو ڈانٹ لگائی ہے۔ عدالت نے عآپ سے کہا کہ جب آپ نے عدالت میں کوئی اسٹے نہیں دیا پھر انتخابی کمیشن سے کیسے کہا کہ ہائی کورٹ نے روک لگائی ہے، کیا یہ سچ ہے؟ کیا ہائی کورٹ نے روک لگائی تھی؟ ہائی کورٹ نے کوئی روک نہیں لگائی تھی۔
ڈانٹ لگاتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ آپ اپنی مرضی سے طے کر لیتے ہیں کہ آپ کو انتخابی کمیشن کے سامنے نہیں جانا۔ جب آپ انتخابی کمیشن کے ذریعہ بار بار طلب کیے جانے کے بعد بھی نہیں جا رہے تو وہ کیا کریں گے؟ انتخابی کمیشن آپ کو بار بار بولتا رہا کہ اپنا جواب دیں لیکن آپ خاموش رہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اروند کیجریوال کی حمایت میں ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ایک آئینی ادارہ کو سیاسی بدلہ لینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عآپ کے 20 ممبران اسمبلی کو انتخابی کمیشن نے سماعت کا موقع نہیں دیا۔ انتہائی افسوسناک۔ یہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس وقت ہم مضبوطی سے اروند کیجریوال اور ان کی ٹیم کے ساتھ ہیں۔‘‘
دہلی ہائی کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ سماعت کے دوران ابھی عام آدمی پارٹی کے وکیل اپنی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ عآپ کے وکیل نے کہا کہ ’’ہم نے انتخابی کمیشن کو جواب دیا اور اپنے جواب میں بتایا کہ ہماری بات پوری طرح سے نہیں سنی جا رہی ہے۔ کمیشن کو اس بات کی جانچ کرنی چاہیے کہ الزام میں کتنی سچائی ہے۔‘‘ عآپ کے وکیل نے عدالت سے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے انتخابی کمیشن سے کہا تھا کہ جب تک ہائی کورٹ فیصلہ نہیں کرتا تب تک رپورٹ مکمل نہ کی جائے۔
کانگریس صدر دفتر میں میٹنگ شروع۔ میٹنگ میں پارٹی کے کئی بڑے لیڈران موجود ہیں اور بروز پیر عآپ کے خلاف مظاہرہ کرنے کی پالیسی پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ میٹنگ میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے ماکن نے 20 میں سے 13 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عام آدمی پارٹی کے سات ممبران اسمبلی ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ ان میں وہ تین ممبران اسمبلی بھی شامل ہیں جو کچھ دیر قبل انتخابی کمیشن گئے تھے۔
پروین کمار، شرد کمار، آدرش شاستری، مدن لال، چرن گویل، سریتا سنگھ، نریش یادو، جرنیل سنگھ، راجیش گپتا، الکا لامبا، نتن تیاگی، سنجیو جھا، کیلاش گہلوت، وجندر گرگ، راجیش رشی، انل کمار واجپئی، سوم دت، سلبیر سنگھ ڈالا، منوج کمار اور اوتار سنگھ۔
دہلی کے وزیر سوربھ بھاردوار نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ’’چیف الیکشن کمشنر 23 جنوری کو اپنی سالگرہ منائیں گے اور وہ 65 سال کے ہو جائیں گے۔ اس کے بعد وہ عہدے پر نہیں رہ پائیں گے اس لئے وہ مودی کو قرض چکانا چاہتے ہیں۔‘‘
عام آدمی پارٹی کے 20 اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے فوراً بعد دہلی پردیش کانگریس کی طرف سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اجے ماکن نے کہا عام آدمی پارٹی کی بد عنوانی اب جگ ظاہر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کی سیٹ بھی عآپ نے فروخت کی ہے۔
جہاں تک قوانین و ضوابط کا سوال ہے، گورنمنٹ آف نیشنل کیپٹل ٹیریٹری آف دہلی ایکٹ، 1991 کے تحت دہلی میں صرف ایک پارلیمانی سکریٹری کا عہدہ ہو سکتا ہے۔ یہ پارلیمانی سکریٹری وزیر اعلیٰ دفتر سے جڑا ہوگا لیکن کیجریوال نے اپنے 21 ممبران اسمبلی کو یہ عہدہ دے دیا۔ چونکہ ایک ممبر اسمبلی نے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا ہے اس لیے انتخابی کمیشن نے آج عآپ کے 20 ممبران اسمبلی کی نااہلی پر مبنی رپورٹ صدر جمہوریہ کے پاس بھیجی ہے۔
عآپ کے 20 ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دئے جانے پر دہلی کے سابق وزیر کپل مشرا نے کیجریوال پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ کیجریوال پیسہ کے للچ میں اندھے ہو چکے تھے۔
سماجی کارکن اور وکیل پرشانت پٹیل نے مارچ 2015 میں صدر جمہوریہ کے یہاں پٹیشن داخل کر کے بتایا کہ کیجریوال کی پارٹی کے 21 ممبران اسمبلی پارلیمانی سکریٹری بنائے گئے ہیں۔ یہ سبھی فائدہ کے عہدہ پر ہیں، اس لیے ان کی رکنیت ختم کی جائے۔ بعد میں صدر جمہوریہ نے انتخابی کمیشن میں کیس کو بھیج دیا جہاں اس معاملے پر سماعت ہوئی اور مکمل رپورٹ صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دی گئی۔ اس پورے معاملے میں عآپ کا کہنا تھا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں پارلیمانی سکریٹری کے عہدوں پر وزرائے اعلیٰ اپنے ممبران اسمبلی کی تقرری کرتے ہیں پھر انھیں کیوں روکا جا رہا ہے؟ دراصل کیجریوال جن ریاستوں کی بات کر رہے تھے وہاں کی حکومتوں نے پہلے قانون بنایا اس کے بعد وہاں پارلیمانی سکریٹری کی تقرری کی گئی جب کہ دہلی میں ایسا نہیں ہوا۔
الیکشن کمیشن کے ذریعہ رپورٹ صدر جمہوریہ کے پاس بھیجے جانے کے بعد اب بڑا سوال یہ ہے کہ اس کا اثر دہلی حکومت پر کیا پڑ سکتا ہے۔ عآپ کی سیٹوں پر نظر ڈالی جائے تو ان کے پاس اس وقت کل 66 ممبران اسمبلی ہیں اور اقتدار پر بنے رہنے کے لیے انھیں 36 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو 20 ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم ہونے کے باوجود ان کے پاس 46 سیٹیں ہوں گی، گویا کہ کیجریوال حکومت کے گرنے کا خطرہ نہیں ہے۔ لیکن صدر جمہوریہ کے ذریعہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر مہر ثبت کرنے کے بعد کمیشن ان 20 سیٹوں پر دوبارہ انتخابات کرائے گی۔
حالانکہ برسراقتدار عآپ اس پورے معاملے میں اپنی دفاع کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انتخابی کمیشن 20 ممبران اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ نہیں سنا سکتا، اس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے۔
الیکشن کمیشن نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے دہلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی (عآپ) کے 20 ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کے بعد اروند کیجریوال کی قیادت والی عآپ حکومت کے لیے مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو بھیج دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ان ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری بنائے جانے کے بعد سے ہی ان کی رکنیت پر خطرہ منڈلا رہا تھا۔ دراصل چیف الیکشن کمشنر اے کے جیوتی 22 جنوری کو سبکدوش ہونے والے ہیں۔ اپنی سبکدوشی سے قبل وہ سبھی زیر التوا معاملوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اس لیے کمیشن نے عآپ کے 20 ممبران اسمبلی سے متعلق اپنی رپورٹ صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 19 Jan 2018, 2:27 PM IST