
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز ڈاکٹر وویک جوشی و ڈاکٹر ایس ایس سندھو میٹنگ کرتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘ @ECISVEEP
ایس آئی آر معاملہ پر تنازعات کا سامنا کر رہے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے آج دونوں چیف الیکشن کمشنرز ڈاکٹر وویک جوشی اور ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں واضح کیا گیا کہ فارم 6 معاملہ پر جو تنازعہ ہے، وہ بے معنی ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے بھی فارم 6 کے ڈکلیریشن کو درست مانا ہے۔ اس میٹنگ کے بعد جاری بیان میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ کابینہ سکریٹری کو جو خط لکھا گیا تھا، اس کا الیکشن کمیشن کے پالیسی پر مبنی فیصلوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
26 ستمبر کو ہوئی الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں کچھ اہم فیصلے لیے گئے، جنھیں 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں دہلی اور مہاراشٹر میں جاری ایس آئی آر کے عمل کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ کی اہم باتیں اس طرح ہیں:
ایس آئی آر میں نوٹس حاصل کرنے والے لوگوں کے گھر بی ایل او دستاویزات لینے جائیں گے، سماعت عام طور پر ضروری نہیں ہوگی۔
ڈی ای او ضرورت کے مطابق رین بسیروں، مزدوروں، غریبوں اور بے گھروں کے لیے ہیلپ ڈیسک لگائیں گے۔
ایس آئی آر میں فارم-6 کے ساتھ حلف نامہ کا انتظام سپریم کورٹ سے برقرار رہا۔
ای سی آئی نیٹ کا تجزیہ سینئر ڈی ای سی اور خود مختار آئی آئی ٹی/آئی آئی ایم ماہرین کی کمیٹی کرے گی۔
دہلی میں دعوے و اعتراضات کی آخری تاریخ 30 اکتوبر اور مہاراشٹر میں 12 اکتوبر ہوئی۔
الیکشن کمیشن کی سبھی میٹنگوں میں ایجنڈا پہلے بھیجا جائے گا اور میٹنگ کی کارروائی جاری ہوگی۔
سبھی افسران کی اے پی اے آر رپورٹ ہر سال مقررہ وقت 31 دسمبر تک پوری ہوگی۔
افسران کے بیرون ممالک سفر کے لیے اب الیکشن کمیشن کی منظوری ضروری ہوگی۔
کمشنرز کی طرف سے افسران کو جاری سبھی ہدایات پر سختی سے عمل یقینی بنایا جائے گا۔
فیصلہ کے دوسرے حصہ میں کہا گیا کہ ایس آئی آر کا عمل بہار اور مغربی بنگال سمیت ملک کی 20 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام خطوں میں پہلے ہی پورا ہو چکا ہے۔ اگر ایس آئی آر کے دوران یا اس کے بعد ووٹر لسٹ میں جن لوگوں کا نام چھوٹ گیا ہے (اس کے ساتھ نوجوان یا پہلی بار ووٹ دینے والے لوگ بھی)، اپنے نام کو ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کے لیے مستقل اپڈیٹیشن کے تحت متعلقہ ای آر او کے پاس درخواست دے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ چیف الیکٹورل افسران کو اس عمل کے لیے سہولت دینے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ ایس آئی آر پورا ہونے کے بعد سی ای او، ڈی ای او اور ای آر او چھوٹے ہوئے اور نئے ووٹرز کے نام جڑوانے کے لیے فوراً خصوصی مہم شروع کریں گے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری فیصلوں کے تیسرے حصہ میں 3 اہم باتیں پیش کی گئیں، جو اس طرح ہیں:
کابینہ سکریٹری کو خط آئی ٹی پالیسی نہیں، ڈیپوٹیشن افسر کے کام سے متعلق دیا گیا تھا۔
ملک گیر ایس آئی آر سے متعلق کمیشن کے سبھی فیصلے اتفاق رائے سے لیے گئے تھے۔
گوا میں بی ایل او گھر گھر جا کر چھوٹے ووٹرس سے فارم-6 بھروا رہے ہیں۔
آج ہوئی میٹنگ کے سبھی فیصلوں اور دیگر جانکاریوں کو سامنے رکھنے کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنے آفیشیل بیان کے آخر میں کہا کہ یہ پریس بیان 26 ستمبر کی الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں اور ادارہ کی مکمل منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔