
کانگریس لیڈر پون کھیڑا / تصویر آئی این سی
مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو توڑنے کے لیے چلائے گئے ’آپریشن ٹائیگر‘ کے حوالے سے کانگریس نے بی جے پی کو جم کر نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بی جے پی کے ’آپریشن لوٹس‘ کی حکمت عملی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اسے ’آپریشن کیچڑ‘ بتاتے ہوئے کہا کہ جہاں ’کمل‘ نہیں کھل پا رہا ہے وہاں بی جے پی کیچڑ پھیلا رہی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے بی جے پی کی ’آپریشن ٹائیگر‘ اور ’کانگریس مکت بھارت‘ مہم کا ذکر کرتے ہوئے تنقید کی اور اس ڈکیتی کے پیچھے کارفرما نیت پر سوال اٹھائے۔
Published: undefined
یاد رہے کہ حال ہی میں ادھو ٹھاکرے کے 6 اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی سے الگ گروپ بنا کر اعلان کیا ہے کہ وہ ایکناتھ شندے کے ساتھ جائیں گے۔ انہوں نے اس سلسلے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بھی ملاقات کی تھی۔ پون کھیڑا نے اس پر طنز کستے ہوئے اس کارروائی کو ’آپریشن کیچڑ‘ سے تعبیر کیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ کیچڑ مہم ہے کیونکہ ان انتخابی حلقوں میں ’کمل‘ کھل نہیں سکا، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ 240 سیٹیں جیتنے پر انہیں اتنی تکلیف کیوں ہوئی، جبکہ 400 سیٹیں بھی مل سکتی تھیں؟ اب وہ ٹی ایم سی اور شیو سینا جیسی دوسری پارٹیوں کے ممبران اسمبلی چرانے میں کیوں لگے ہوئے ہیں؟ ان کا ارادہ کیا ہے؟ کیا ان کا ارادہ واقعی میں آئین بدلنا ہے؟ اس ڈکیتی کے پیچھے کیا مقصد ہے؟
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ایکناتھ شندے کی طرف سے ادھو ٹھاکرے کو یہ دوسرا جھٹکا ہے۔ شندے، جو کبھی ٹھاکرے کے قریبی تھے، اب ’اصلی‘ شیوسینا کے سربراہ ہیں۔ حال ہی میں وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی کہا تھا کہ مہاراشٹر میں صرف ایک ہی شیوسینا ہے اور اس کے سربراہ ایکناتھ شندے ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مہاراشٹر میں ادھو سے پہلے بنگال میں ممتا بنرجی کو جھٹکا لگا تھا۔ ٹی ایم سی کو بی جے پی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس کے 20 ممبران پارلیمنٹ نے کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں الگ گروپ بنا کر تریپورہ کی ایک پارٹی این سی پی آئی (جو این ڈی اے کا حصہ ہے) میں خود کو ضم کر لیا۔ اس کے علاوہ بنگال میں ٹی ایم سی کے ممبران اسمبلی نے بھی الگ گروپ بنا لیا اور اپوزیشن لیڈر بھی منتخب کر لیا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined