
ملکارجن کھڑگے / تصویر آئی این سی
نیٹ (NEET) پیپر لیک کے مسئلہ پر حال ہی میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کچھ میڈیا اداروں کو انٹرویو دیے ہیں۔ ان انٹرویوز کے منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے دھرمیندر پردھان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’90 پرچے لیک ہوئے، کروڑوں طلبا کا مستقبل برباد ہوا۔ نیٹ پیپر لیک کی وجہ سے 20 بچوں نے اپنی جان دے دی اور کئی خاندان تباہ ہو گئے۔ لیکن مودی حکومت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کرسی سے چپک کر بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘
Published: undefined
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی کارکردگی کو کانگریس صدر نے انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے انٹرویو دے رہے ہیں اور ’چھاتروں کی گونج‘ کو ’دہشت گرد‘ قرار دے رہے ہیں۔ ملک یہ نہیں بھولا ہے کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں کسانوں کو ’آندولن جیوی‘ اور ’پرجیوی‘ جیسے توہین آمیز القابات سے نوازا تھا۔‘‘ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ جو بھی اس حکومت سے سوال کرتا ہے، اسے ’اینٹی نیشنل‘ (ملک دشمن) قرار دے دیا جاتا ہے۔ انھون نے زور دے کر کہا کہ ’’طلبا کی آواز پورے ملک میں بلند ہوگی اور مودی حکومت کے وزیر دھرمیندر پردھان کو بالآخر استعفیٰ دینا ہی پڑے گا۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ 23 جون کو نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ایک بیان دیا تھا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے جن اساتذہ کو ذمہ داری سونپی تھی، انہوں نے اپنے فرائض صحیح طریقے سے انجام نہیں دیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’محافظ ہی بھکشک بن گئے۔‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پیپر لیک کے بعد کئی طلبا کی خودکشیوں کے لیے خود کو بھی ذمہ دار قرار دیا تھا۔
Published: undefined
نیٹ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات میں سامنے آنے والے نکات پر بات کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان نے کہا تھا کہ این ٹی اے نے جن چند اساتذہ پر سوالنامہ تیار کرنے کے لیے اعتماد کیا تھا، انہوں نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ ان کے مطابق جن لوگوں پر محافظ ہونے کی ذمہ داری تھی، وہی نقصان پہنچانے والے بن گئے اور انہوں نے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined