قومی خبریں

ڈوسو انتخابات: این ایس یو آئی کا 4-0 سے جیت کا دعویٰ، طلبہ کے مسائل اور سماجی انصاف پر زور

این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے ڈوسو انتخابات میں تنظیم کی چاروں نشستوں پر کامیابی کا دعوی کیا۔ انہوں نے طلبہ کے تحفظ، سستی رہائش، بنیادی ڈھانچے اور سماجی انصاف کو انتخابی ایجنڈے میں شامل کیا

<div class="paragraphs"><p>ڈی یو ایس یو انتخابات کے لیے این ایس یو آئی کے امیدوار</p></div>

ڈی یو ایس یو انتخابات کے لیے این ایس یو آئی کے امیدوار

 

نئی دہلی: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) انتخابات 2026-27 کے لیے اپنے انتخابی ایجنڈے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے طلبہ کے مسائل، سماجی انصاف، تحفظ، جمہوری حقوق اور بہتر تعلیمی ماحول کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے تنظیم کے چاروں امیدواروں کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ این ایس یو آئی ڈوسو انتخابات میں 4-0 سے جیت کے لیے پراعتماد ہے۔

این ایس یو آئی نے صدر کے عہدے کے لیے بیلٹ نمبر 6 سے وجے شنکر مینا، نائب صدر کے لیے بیلٹ نمبر 4 سے ویر چترتھ، سیکریٹری کے لیے بیلٹ نمبر 1 سے نمرتا چودھری اور جوائنٹ سیکریٹری کے لیے بیلٹ نمبر 2 سے گوپال چودھری کو امیدوار بنایا ہے۔

ونود جاکھڑ نے کہا کہ امیدواروں کا اعلان ایک بڑی انتخابی مہم کا آغاز ہے، جس کا مقصد دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کو درپیش حقیقی مسائل کو انتخابی بحث کے مرکز میں لانا ہے۔ ان کے مطابق این ایس یو آئی تعلیم، تحفظ، رہائش، سماجی انصاف اور طلبہ کے جمہوری حقوق سے متعلق مسائل پر مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی آنے والے دنوں میں اپنا تفصیلی انتخابی منشور جاری کرے گی۔ منشور میں طلبہ کے لیے سستی رہائش، بہتر بنیادی ڈھانچہ، تحفظ، تعلیمی مواقع اور سماجی انصاف سمیت روزمرہ زندگی سے جڑے اہم مسائل کو ترجیح دی جائے گی۔

این ایس یو آئی کے قومی صدر نے حالیہ ستیہ نکیتن سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کا تحفظ اور تعلیمی اداروں کی ادارہ جاتی جواب دہی یونیورسٹی برادری کے سامنے موجود اہم مسائل میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور متاثرہ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کی آواز کو نظر انداز نہیں ہونے دے گی۔

ونود جاکھڑ نے کہا کہ ڈوسو انتخابات محض چار عہدوں کے لیے ہونے والا مقابلہ نہیں ہے بلکہ یہ طلبہ کی آواز کو مضبوط کرنے، جمہوری نمائندگی کو مستحکم کرنے اور دہلی یونیورسٹی کو طلبہ کے مفادات کے مطابق بنانے کی جدوجہد بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی طلبہ کے حقیقی مسائل کو انتخابی مہم کا بنیادی موضوع بنائے گی اور کیمپس میں مساوی مواقع، تحفظ اور بہتر تعلیمی سہولیات کے لیے آواز اٹھائے گی۔

انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ انتخابی عمل میں فعال طور پر حصہ لیں اور ایسی سیاست کی حمایت کریں جو تعلیم، مساوات، سماجی انصاف اور طلبہ کی فلاح کو ترجیح دیتی ہو۔

ڈوسو انتخابات کے لیے 18 ستمبر کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 19 ستمبر کو کی جائے گی۔ این ایس یو آئی نے اپنے چاروں امیدواروں کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابی مہم میں طلبہ کے بنیادی مسائل کو مرکزی موضوع بنانے کا اعلان کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔