قومی خبریں

بھارت جوڑو یاترا کے دوران جب راہل گاندھی گھٹنے کے درد سے پریشان تھے تو ایک چٹھی ملی جو دوا بن گئی!

راہل گاندھی نے جموں و کشمیر کے سری نگر میں موجود لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے یاترا کے دوران کا ایک انتہائی متاثر کن قصہ سنایا۔

<div class="paragraphs"><p>بھارت جوڑو یاترا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

بھارت جوڑو یاترا، تصویر آئی اے این ایس

 

کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ اس وقت اپنی آخری منزل پر پہنچ گئی ہے۔ کئی اپوزیشن پارٹی لیڈران کی اختتامی تقریب میں شرکت ہو رہی ہے اور ایسے موقع پر بھارت جوڑو یاترا میں شامل سبھی یاتری انتہائی جذباتی نظر آ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ایک کنبہ کی طرح جڑ چکے بھارتی یاتری اس یاترا کے اختتام کا تصور کر کے ہی جذباتی ہوئے جا رہے ہیں اور ان کے چہروں پر مایوسی کی لکیریں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی سبھی پُرجوش بھی نظر آ رہے ہیں کہ راہل گاندھی کی قیادت میں جاری بھارت جوڑو یاترا مشکلات کے کئی دور سے گزرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ گئی۔

Published: undefined

اس درمیان راہل گاندھی نے جموں و کشمیر کے سری نگر میں موجود لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے یاترا کے دوران کا ایک انتہائی متاثر کن قصہ سنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب میں چھوٹا تھا تو فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ ایک بار کالج میں گھٹنے پر فٹ بال سے چوٹ لگی جس سے شدید طور پر زخمی ہو گیا تھا۔ پھر جب گھٹنے کا درد ختم ہوا، تو چوٹ کو بھول گیا تھا۔ لیکن کنیاکماری سے پانچ سات دن بعد گھٹنے میں دقت محسوس ہوئی۔ شدید تکلیف کا احساس ہوا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ جو 3500 کلومیٹر ہے کیا میں اس کو چل پاؤں گا یا نہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ آسان کام ہوگا، لیکن یہ تو بہت مشکل ہو گیا۔‘‘

Published: undefined

راہل گاندھی نے مزید کہا ’’راستے میں ایک دن مجھے گھٹنے میں شدید درد ہو رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ 7-6 گھنٹے مزید چلنے ہیں اور یہ کیسے ہوگا۔ اس دن مجھے لگ رہا تھا کہ آج مشکل ہے۔ اور پھر ایک چھوٹی سی بچی دوڑتی ہوئی میرے پاس آئی۔ مجھے کہا کہ– ’میں نے تمھارے لیے کچھ لکھا ہے، مگر تم ابھی مت پڑھو۔ اس کو بعد میں پڑھنا۔‘ اور پھر وہ مجھ سے گلے لگ کر بھاگ گئی۔ پھر میں نے سوچا کہ پڑھتا ہوں کہ کیا لکھا ہے۔ اس نے لکھا تھا کہ– ’مجھے نظر آ رہا ہے کہ آپ کے گھٹنے میں درد ہے۔ کیونکہ جب آپ اس پیر پر وزن ڈالتے ہو تو آپ کے چہرے پر یہ درد نظر آتا ہے۔ لیکن میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ نہیں چل سکتی کیونکہ میرے والدین نہیں چلنے دے رہے۔ لیکن میں دل میں آپ کے ساتھ آپ کے سائیڈ میں چل رہی ہوں۔ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ آپ اپنے لیے نہیں چل رہے ہو۔ آپ میرے لیے چل رہے ہو اور آپ میرے مستقبل کے لیے چل رہے ہو۔ اور اسی سکینڈ میں پتہ نہیں کیسے میرا درد اس دن غائب ہو گیا۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined