قومی خبریں

دہلی میں گاڑیوں کی جانچ میں بڑی لاپروائی، ڈی ٹی سی بسیں بھی اصولوں کی خلاف ورزی میں شامل: سی اے جی رپورٹ

رپورٹ کے مطابق کئی پی یو سی مراکز پر جانچ محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے۔ لاکھوں ڈیزل اور پیٹرول/سی این جی گاڑیوں کو بغیر جانچ کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔ اس سے پورے نظام کی معتبریت پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی میں فضائی آلودگی / آئی اے این ایس</p></div>

دہلی میں فضائی آلودگی / آئی اے این ایس

 
IANS

 قومی راجدھانی دہلی میں خراب ہوا کے معیار کی ایک بڑی وجہ سامنے آئی ہے۔ دہلی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی طرف سے پیش کی گئی سی اے جی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دہلی میں ہزاروں گاڑیاں آلودگی کی مناسب جانچ کے بغیر چل رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 21-2018 کے درمیان صرف 46 سے 63 فیصد گاڑیوں کا ہی ایمیشن ٹیسٹ ہوا۔ کئی جگہوں پر بغیر جانچ کے ہی پی یو سی سرٹیفکیٹ جاری کردیئے گئے۔ سب سے حیران کن بات تو یہ رہی کہ دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کی بسیں بھی قواعد پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی پی یو سی مراکز پر جانچ محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے۔ لاکھوں ڈیزل اور پیٹرول/سی این جی گاڑیوں کو بغیر جانچ کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔ اس سے پورے نظام کی معتبریت پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ دہلی میں 953 پی یو سی مراکز ہیں لیکن ان کی تقسیم ناہموار ہے۔ ان میں سے 31 فیصد تو صرف خاص گاڑیوں (جیسے بس اور ٹرک) کے لیے ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق21-2018 کے دوران 22.14 لاکھ ڈیزل گاڑیوں میں سے صرف 24 فیصد کی جانچ کی گئی جب کہ 65.36 لاکھ پیٹرول/سی این جی گاڑیوں میں سے صرف 1.08 لاکھ کی ہی مناسب جانچ کی گئی۔ 10.61 لاکھ  بی ایسIV  گاڑیوں میں سے 5,661 گاڑیوں کو بغیر جانچ پاس کردیا گیا۔ کچھ مراکز پر ایک منٹ میں کئی گاڑیوں کا ٹیسٹ یعنی فرضی جانچ ہوئی ہے۔

Published: undefined

رپورٹ میں انکشاف کیا ہوا ہے کہ سرکاری بسیں اور پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں بھی قواعد پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔ دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) اور کلسٹر بسوں کا باقاعدگی سے ایمیشن ٹیسٹ نہیں ہورہا ہے۔ کئی بسیں بغیر جانچ کے سڑکوں پر روڑ رہی ہیں۔ اس سلسلے میں کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ جب سرکاری گاڑیاں بھی رولز پر عمل نہیں کررہیں تو عام شہریوں سے اصولوں پر عمل کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔

Published: undefined

دہلی میں اب بھی بڑی تعداد میں پرانی بی ایس۔III  اور بی ایس۔IV  ڈیزل گاڑیاں چل رہی ہیں جو ہوا میں خطرناک آلودگی پھیلا رہی ہیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ان گاڑیوں میں ڈیزل پارٹیکیولیٹ فلٹرز (ڈی پی ایف) لگانے سے آلودگی میں نمایاں کمی آسکتی ہے لیکن اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دہلی میں 4.64 لاکھ بی ایس۔ IV  ڈیزل گاڑیاں ہیں جن سے پی ایم اور ناکس آلودگی ہوتی ہے۔ ایسے میں ڈی پی ایف لگانے سے آلودگی میں 60-90 فیصد کمی آسکتی ہے۔ حالانکہ سی پی سی بی کی 2015 کی سفارش اور آئی آئی ٹی کانپور کی 2016 کی تجویز کے باوجود ابھی تک کوئی پائلٹ پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے حکومت کو اس ٹیکنالوجی کو لاگو کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined