قومی خبریں

ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید: تحریک آزادی کے سپاہی اور سِپلا کے بانی

مجاہد آزادی اور سِپلا کے بانی ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید نے تحریک آزادی میں حصہ لیا، دو قومی نظریے کی مخالفت کی اور تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں رہ کر ملک کی دوا سازی اور سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر شاہد صدیقی علیگ</p></div>

تصویر شاہد صدیقی علیگ

 

محب وطن ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید ہندوستان کے ممتاز کیمیا داں اور ملک کی معروف دواساز کمپنی سِپلا کے بانی تھے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، سی آر داس، ایم اے انصاری اور تصدق احمد شیروانی جیسے رہنماؤں کی قربت میں رہتے ہوئے تحریک آزادی میں حصہ لیا۔ اپنے چچا اور عظیم مجاہد آزادی خواجہ عبدالمجید کی پیروی کرتے ہوئے انہوں نے قومی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کیا اور تاحیات مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کی مخالفت کی۔

خواجہ عبدالحمید کی پیدائش 31 اکتوبر 1898ء کو ان کے ننھیال علی گڑھ میں ہوئی۔ ان کے والد خواجہ عبدالعلی نے ابتدا میں وکالت کے پیشے سے وابستگی اختیار کی اور بعد ازاں برطانوی حکومت کے محکمہ عدلیہ میں ملازمت کرلی۔ چچا خواجہ عبدالمجید کے زیر سایہ پرورش پانے والے عبدالحمید پر ان کی صحبت اور انقلابی خیالات کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

ان کی ابتدائی تعلیم 1908ء میں ایم اے او کالج علی گڑھ کے منٹو سرکل اسکول سے شروع ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے اسلامیہ ہائی اسکول اٹاوہ سے ریاضی میں امتیازی کامیابی کے ساتھ میٹرک کیا۔ 1917ء میں آگرہ کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد مدراس کے لیدر ٹریڈ اسکول سے ایک سالہ ڈپلومہ حاصل کیا۔ 1920ء میں میور سینٹرل کالج الٰہ آباد سے بی ایس سی اور ایم ایس سی کیمیا کی ڈگریاں حاصل کیں۔

یہ وہ دور تھا جب تحریک آزادی اپنے عروج پر تھی۔ جلیانوالہ باغ سانحے کے بعد مہاتما گاندھی کی تحریک عدم تعاون اور سول نافرمانی کی تحریک پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ ترک موالات کے تحت علی برادران اور مہاتما گاندھی نے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تو خواجہ عبدالحمید نے بھی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

انہوں نے طلبہ کو میور سینٹرل کالج چھوڑنے کی ترغیب دی اور وہاں ہڑتال کرائی۔ تقریب تقسیم اسناد کا بھی بائیکاٹ کیا، جس کے مہمان خصوصی گورنر سر اسپینسر ہارکورٹ بٹلر تھے۔ گورنر کی بگھی کا راستہ روکنے کی کوشش کے دوران انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے کالج چھوڑ دیا اور جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے عزم کے ساتھ علی گڑھ واپس آگئے۔

اس وقت علی گڑھ میں بھی طلبہ کی تحریک زوروں پر تھی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین، جو ایم اے او کالج میں ایم اے کے طالب علم اور کالج یونین کے نائب صدر تھے، ان کے ساتھ تقریباً 300 طلبہ نے بھی کالج چھوڑ دیا۔ ان طلبہ کے لیے آل انڈیا خلافت کمیٹی نے ایم اے او کالج کی جامع مسجد کے صحن میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ تدریسی عملے میں ذاکر حسین کو معاشیات اور عبدالحمید کو کیمیا پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

اسی دوران عبدالحمید کے والد نے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد ’ایلیسن کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس‘ کے نام سے ادویات کی ایک دکان کھولی، جسے باپ بیٹا مل کر چلاتے تھے۔ عبدالحمید جامعہ ملیہ میں تدریس کے ساتھ دکان کے امور بھی انجام دیتے رہے۔ اس طرح ان کی دلچسپی ادویات کے شعبے میں بڑھتی گئی۔

مہاتما گاندھی اور دیگر قومی رہنما جب علی گڑھ کے دورے پر آئے تو خواجہ عبدالمجید کی رہائش گاہ پر قیام کیا۔ ان رہنماؤں کے ایک ہفتے کے قیام کے دوران عبدالحمید کو انہیں قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ دسمبر 1921ء میں کانگریس کے احمد آباد اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچنے پر وہ سابرمتی آشرم میں مہاتما گاندھی کے ساتھ بھی ٹھہرے۔

تحریک عدم تعاون کے ملتوی ہونے کے بعد عبدالحمید کے اصرار پر ڈاکٹر ذاکر حسین 1923ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی روانہ ہوئے۔ عبدالحمید بھی بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے والد کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں تھے۔ جب ان کی والدہ کو بیٹے کی خواہش کا علم ہوا تو انہوں نے ورثے میں ملی جائیداد فروخت کرکے انہیں جرمنی بھیجنے کا انتظام کیا۔ عبدالحمید نے برلن یونیورسٹی سے کیمیائی مرکبات پر تحقیق کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

1925ء میں ایسٹر کی تعطیلات کے دوران ان کی ملاقات پولش نژاد سوشلسٹ یہودی خاتون لوبا سے ہوئی۔ ان کی ذہانت اور شخصیت سے متاثر ہوکر عبدالحمید نے انہیں اپنا شریک حیات بنایا۔ ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ برلن چھوڑ کر ہندوستان واپس آگئے۔

کچھ عرصے بعد ممبئی میں سکونت اختیار کی اور 1935ء میں انگریزی ادویات کی صنعت ’کیمیکل، انڈسٹریل اینڈ فارماسیوٹیکل لیبارٹریز‘ (CIPLA) کی بنیاد رکھی۔ ان کی قائم کردہ کمپنی نے ہندوستان کی دوا سازی کی صنعت میں نمایاں مقام حاصل کیا اور عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کی۔

ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید نے 1937ء میں بمبئی لیجسلیٹو کونسل کے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے ایک ایسے حلقے سے پرچہ نامزدگی داخل کیا جہاں محمد علی جناح رہائش پذیر تھے۔ ان کے اس فیصلے سے جناح مخمصے میں پڑ گئے اور انہوں نے عبدالحمید سے ملاقات کرکے پرچہ واپس لینے کی درخواست کی، لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ جناح نے مسلم لیگ کے امیدوار کی کامیابی کے لیے ذاتی طور پر انتخابی مہم چلائی، جبکہ عبدالحمید کی انتخابی مہم ان کے دوست ڈاکٹر ذاکر حسین نے سنبھالی۔ نتیجتاً مسلم لیگ کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تقسیم ہند کے بعد محمد علی جناح نے بھی سائنس داں عبدالحمید کو پاکستان منتقل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن محب وطن خواجہ صاحب کسی بھی قیمت پر ہندوستان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید نے کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) کے قیام اور اس کی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ متعدد سرکاری اور پیشہ ورانہ اداروں سے وابستہ رہے اور ملک کی ادویہ سازی، سائنسی اور تکنیکی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

23 جون 1972ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ذریعے ثابت کیا کہ وطن سے محبت صرف نعروں تک محدود نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں اور علم کو ملک کی ترقی کے لیے وقف کرنے کا نام بھی ہے۔ ہندوستان کی آزادی اور سائنسی ترقی میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔