قومی خبریں

’اپنا ہوم ورک بہتر کریں‘، جئے رام رمیش نے بی جے پی پر لگایا ہند-آسٹریلیا یورینیم معاہدہ کا کریڈٹ لینے کا الزام

جئے رام رمیش نے کہا کہ بی جے پی کے ٹرولز (جن میں اس کے بعض اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہیں) کو چاہیے کہ وہ ہند-آسٹریلیا یورینیم معاہدہ پر اظہار خیال کرنے سے پہلے اپنا ہوم ورک بہتر انداز میں کریں۔

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

جئے رام رمیش، تصویر سوشل میڈیا

 

وزیر اعظم مودی کا آسٹریلیا دورہ کئی معنوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورہ پر آسٹریلیا کے ذریعہ ہندوستان کو یورینیم دینے کا اعلان بھی ہوا، لیکن کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ یو پی اے حکومت کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس معاملہ میں بی جے پی اور اس کے لیڈران پر ’کریڈٹ‘ لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ تاثر دینے کے لیے کہ آسٹریلیا کی جانب سے ہندوستان کو یورینیم کی فروخت وزیر اعظم مودی کی بڑی سفارتی کامیابی ہے، بی جے پی کا پورا نظام بھرپور مہم چلا رہا ہے۔‘‘

جئے رام رمیش نے اس بارے میں 2011 کی یو پی اے حکومت کی یاد دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’4 دسمبر 2011 کو اُس وقت کی آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گلارڈ نے اکتوبر 2008 میں ہونے والے ہند-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدے کے بعد اپنی پارٹی سے ہندوستان کو یورینیم فروخت کرنے کی منظوری حاصل کی تھی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کے ٹرولز (جن میں اس کے بعض اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہیں) کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر اظہار خیال کرنے سے پہلے اپنا ہوم ورک بہتر انداز میں کریں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز بھی جئے رام رمیش نے ہند-آسٹریلیا یورینیم معاہدہ سے متعلق اپنا رد عمل ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے کانگریس حکومت کے دوران ہوئے معاہدہ کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایم مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ کانگریس لیڈر نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ایوارڈ-جیوی نے فخر سے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان کو آسٹریلیا یورینیم کی سپلائی کرے گا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’یہ صرف امریکہ-ہندوستان نیوکلیائی معاہدہ کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے، جو آخر کار 8 اکتوبر 2008 کو قانون بنا۔ جولائی 2005 میں ڈاکٹر منموہن سنگھ اور امریکی صدر جارج بش کے درمیان ہوئی ملاقات سے ہی بات چیت کی شروعات ہوئی تھی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔