قومی خبریں

’جب تک دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نہیں ہوگا، بحث ممکن نہیں‘، ملکارجن کھڑگے کا حکومت کو دوٹوک پیغام

کھڑگے نے کہا کہ ’آج ہزاروں نوجوان سڑکوں پر ہیں، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ کئی نوجوان اسپتال میں داخل ہیں، ان کے والدین پریشان ہیں۔ اس لیے جب تک دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نہیں ہوگا، بحث ممکن نہیں ہے۔‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

تصویر/سوشل میڈیا، بشکریہ @INCIndia

 

پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں جمعرات کو این ڈی اے اور انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ آمنے سامنے آ گئے۔ دونوں نے مکر دوار پر الگ الگ مسائل کو لے کر ایک ساتھ احتجاج کیا۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور نیٹ پیپر لیک تنازعہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ دوسری طرف این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث سے اپوزیشن کے انکار اور مبینہ طور پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ آج ہزاروں نوجوان سڑکوں پر ہیں، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ کئی نوجوان اسپتال میں داخل ہیں، ان کے والدین پریشان ہیں۔ اس لیے جب تک استعفیٰ نہیں ہوگا، بحث ممکن نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعظم مودی کے آج کے بیان پر کھڑگے نے کہا کہ ’’آج وزیر اعظم مودی کا جو بیان آیا ہے وہ اشتعال انگیز ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔ ہم ایوان میں بحث کرنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت ایوان میں بحث سے بھاگ رہی ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی کے بیان پر کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی نے آج ٹویٹ میں جو لکھا ہے، وہ کچھ ایسا ہے جیسے کوئی بچہ اپنے والد سے کہے کہ وہ ڈیزائنر بننا چاہتا ہے، لیکن والد کہے کہ فکر مت کرو، میں نے سیٹنگ کر کے تمہارا ایڈمیشن انجینئرنگ کالج میں کرا دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی سے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور انہیں پیٹنے والوں کے خلاف ایکشن ہو۔‘‘

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’آج طلبہ کا سسٹم سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ اگر آپ سسٹم کے دائرے میں رہ کر طلبہ کے مسئلے کا حل نکالیں گے تو طلبہ نہیں مانیں گے۔ حل تب ہی نکل سکتا ہے، جب حکومت طلبہ کا مطالبہ مانے، لیکن حکومت سن ہی نہیں رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی ٹویٹ کرتے ہیں کہ انہیں طلبہ پر بھروسہ ہے، لیکن کل رات پولیس انہیں پیٹ رہی تھی۔ طلبہ پر آنسو گیس کے گولے کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟ اگر حکومت کو اسٹوڈنٹس کی فکر ہے، تو ان سے بات کرے۔‘‘

کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم مودی کے بیان پر کہا کہ ’’یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ اب وزیر اعظم مودی کی باتوں پر کسی کو یقین نہیں رہا۔ وہ اپنی ساکھ کھو چکے ہیں اور مودی حکومت نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ پہلے دھرمیندر پردھان کو وزارت تعلیم سے ہٹایا جائے، اس کے بعد ہی وزیر اعظم کو طلبہ سے بات کرنی چاہیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔