قومی خبریں

دنیش نے 10 لاکھ میں خریدا تھا ’نیٹ 2026‘ کا پیپر، بیٹا 720 میں سے 107 نمبر کا ہی دے پایا جواب

گرفتار ملزم دنیش بیوال نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کے لیے 10 لاکھ روپے خرچ کر کے سوالنامہ حاصل کیا تھا، لیکن اس کے باوجود اس کا بیٹا امتحان میں صرف 107 نمبر کا ہی صحیح جواب دے سکا۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

’نیٹ یو جی 2026‘ پیپر لیک معاملہ کی جانچ میں اب کچھ ایسے انکشافات ہو رہے ہیں، جو اس پورے نیٹورک کی سطحیں کھولتے جا رہے ہیں۔ سی بی آئی کی پوچھ گچھ میں گرفتار ملزم دنیش بیوال نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کے لیے 10 لاکھ روپے خرچ کر کے سوالنامہ حاصل کیا تھا، لیکن اس کے باوجود اس کا بیٹا امتحان میں صرف 107 نمبر کا ہی صحیح جواب دے سکا۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے جانچ سے جڑے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق دنیش بیوال نے پوچھ گچھ میں بتایا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے رشی کو لیک سوالنامہ فراہم کیا تھا۔ دعویٰ ہے کہ تقریباً 10 لاکھ روپے کی ڈیل کے بعد یہ سوالنامہ حاصل کیا گیا، لیکن امتحان میں متوقع فائدہ نہیں ملا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 720 نمبروں میں سے 600 نمبروں کا سوالنامہ حاصل کرنے کے باوجود اس کا بیٹا صرف 107 نمبر تک ہی پہنچ پایا۔ سی بی آئی اب اس پورے نیٹورک کی جانچ کر رہی ہے، جس میں پیپر لیک، ٹیلی گرام پر پی ڈی ایف شیئرنگ، طلبا تک سوالنامہ پہنچانے اور لاکھوں روپے کے لین دین کی بات سامنے آ رہی ہے۔

Published: undefined

جانچ ایجنسیوں کے مطابق منگی لال اور دنیش اس پورے نیٹورک میں کورئیر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ یہ لوگ مبینہ لیک پیپر مختلف طلبا تک پہنچانے کا کام کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق دنیش بیوال نے راجستھان کے سیکر میں ایک فلیٹ لے رکھا تھا، جہاں اس کا بیٹا رہتا تھا۔ دنیش کا وہاں مسلسل آنا جانا بھی تھا۔ جانچ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ اسی فلیٹ سے کئی طلبا تک سوالنامے پہنچائے گئے۔ سیکر پہلے ہی ملک کے بڑے ’کوچنگ ہب‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایسے میں جانچ ایجنسیاں یہ بھی معلوم کرنے میں مصروف ہیں کہ کیا یہ نیٹورک کوچنگ سرکل تک بھی پھیلا ہوا تھا۔

Published: undefined

سی بی آئی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ اپریل 2026 میں ناسک کے رہائشی شبھم نے یش یادو کو بتایا تھا کہ منگی لال اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے ’نیٹ یو جی 2026‘ کا مبینہ لیک سوالنامہ چاہتا ہے۔ یہیں سے 10 سے 12 لاکھ روپے کی ڈیل شروع ہوئی۔ جانچ ایجنسی کے مطابق منگی لال نے واٹس ایپ پر یش یادو سے رابطہ کیا اور مبینہ سوالنامہ طلب کیا۔ شبھم نے یقین دلایا کہ پیسوں کے بدلے اصلی سوالنامہ فراہم کیا جائے گا۔ 29 اپریل 2026 کو شبھم نے یش یادو سے دسویں-بارہویں کے اصل دستاویزات، نیٹ کا رول نمبر اور ایک چیک سیکورٹی کے طور پر مانگا۔ اس کے بعد یش یادو نے اپنے دوست یش ککڑ کو منگی لال سے دستاویزات اور چیک لینے بھیجا۔ سی بی آئی کے مطابق یش ککڑ نے دستاویزات اور چیک تو لے لیے، لیکن انہیں آگے شبھم تک نہیں پہنچایا۔

Published: undefined

جانچ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ شبھم نے کہا تھا کہ وہ فیزکس، کیمسٹری اور بایولوجی کے تقریباً 600-500 سوال دے گا، جن سے اچھے نمبر حاصل کیے جا سکتے ہیں اور بڑے میڈیکل کالج میں داخلہ مل سکتا ہے۔ 29 اپریل کو مبینہ طور پر ٹیلی گرام کے ذریعہ پی ڈی ایف فائل بھیجی گئی۔ سی بی آئی کے مطابق برآمد شدہ پی ڈی ایف میں تینوں مضامین کے سوالناموں کے ساتھ شبھم اور منگی لال کے درمیان ہوئی چیٹ (بات چیت) بھی ملی ہے۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ منگی لال کھٹیک کو یہ سوالنامہ گروگرام کے رہائشی یش یادو سے ملا تھا۔ ڈیل یہ تھی کہ اگر تقریباً 150 سوال اصلی سوالنامہ سے میچ ہو جاتے ہیں تو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

Published: undefined

سی بی آئی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ منگی لال نے مبینہ لیک سوالنامے کی پرنٹ کاپی اپنے بیٹے امن بیوال، رشتہ دار رشی اور گنجن کو دی تھی، جو نیٹ امیدوار تھے۔ یہی نہیں، وکاس بیوال کے دوستوں تک بھی یہ سوالنامہ پہنچایا گیا۔ جانچ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ منگی لال نے اپنے جاننے والے استاد ستیہ نارائن کو بھی مبینہ سوالنامہ دیا تھا۔ الزام ہے کہ آنسر شیٹ (جوابات) کے ساتھ سوالنامہ پیسوں کے بدلے فراہم کیے جا رہے تھے۔ پوچھ گچھ میں وکاس بیوال نے بتایا کہ سیکر میں کوچنگ کے دوران اس کی ملاقات یش یادو سے ہوئی تھی۔ سی بی آئی کے مطابق یش یادو نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پیسے لے کر نیٹ کا لیک پرچہ دلا سکتا ہے۔

Published: undefined

وکاس نے بتایا کہ اس کے چھوٹے بھائی امن کے لیے بھی پیسوں کے بدلے پرچہ دلانے کی بات ہوئی تھی۔ یش یادو نے وکاس سے کہا تھا کہ وہ دوسرے امیدوار بھی جوڑ کر لائے۔ بدلے میں اسے مفت پرچہ دینے کی بات کہی گئی تھی۔ اس کے بعد کئی طلبا کی معلومات واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے ذریعے یش یادو کو بھیجی گئیں۔ سی بی آئی کو شبہ ہے کہ اسی طرح یہ نیٹورک دھیرے دھیرے کئی طلبا تک پھیل گیا۔ جانچ ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ یش یادو کے فون سے کئی مشتبہ بات چیت کی جانکاریاں برآمد ہوئی ہیں۔ تاہم، سی بی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے آئی فون کئی اہم ڈاٹا اور ثبوت حذف کر دیے تھے۔ اب فون کو ضبط کر کے فارنسک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ایجنسی کو امید ہے کہ حذف شدہ ڈاٹا ریکور ہونے کے بعد کئی اور بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined