
ڈیزل
مہاراشٹر کے ضلع بلڈھانا سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو اور اس کے ساتھ کانگریس کی جانب سے جاری بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلڈھانا میں ڈیزل کے حصول کے لیے عوام میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے اور لوگ بڑی تعداد میں پٹرول پمپوں کی جانب دوڑتے نظر آ رہے ہیں۔
Published: undefined
کانگریس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں متعدد افراد ہاتھوں میں پلاسٹک کے گیلن اور کنستر اٹھائے پٹرول پمپ کی جانب جاتے یا دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو ’آج تک‘ کی ہے، جس میں بلڈھانا میں ڈیزل بحران کی صورت حال سے واقف کرایا گیا ہے۔ کانگریس نے اس ویڈیو کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ لوگ ڈیزل حاصل کرنے کے لیے پریشان ہیں کیونکہ ان کا روزگار اور معاشی سرگرمیاں اس سے جڑی ہوئی ہیں۔
Published: undefined
اپنی پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’یہ تصویریں مہاراشٹر کے بلڈھانا کی ہیں۔ لوگ ہاتھوں میں پلاسٹک کی کین تھامے ڈیزل کے لیے پٹرول پمپ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ ہر طرف ڈیزل لینے کی ہوڑ مچی ہے۔ سب بے حد پریشان ہیں، کیونکہ ڈیزل سے ان کی روزی روٹی جڑی ہے۔ ڈیزل نہ ملا تو ان کا کام دھندا رک جائے گا۔ فیملی تباہ ہو جائے گی۔‘‘
Published: undefined
اس معاملے پر کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ عوامی مسائل کے مقابلے میں حکومت کی ترجیحات مختلف ہیں۔ پارٹی نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ اقتدار میں بیٹھے افراد کو ان مسائل سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’ان باتوں (عوامی مسائل) سے نریندر مودی کو کیا، وہ تو خوب ملک و بیرون ملک کی سیر کرتے ہیں، لوگوں کو ٹافیاں تقسیم کرتے ہیں، راجہ والی زندگی بسر کرتے ہیں۔ عوام مرے تو مرے، انھیں ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔‘‘
Published: undefined
تاہم اس معاملہ میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ بلڈھانا میں ڈیزل کی مبینہ قلت کی اصل وجہ کیا ہے۔ متعلقہ سرکاری اداروں یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی اس سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا پٹرول پمپوں پر عارضی سپلائی کا مسئلہ پیدا ہوا تھا یا کسی افواہ کی وجہ سے لوگوں میں اچانک ڈیزل خریدنے کی دوڑ لگ گئی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined