
راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں ہندوستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ اسرائیل دورہ کے دوران ایران پر ہوئے حملے کے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس بارے میں کوئی معلومات شیئر کی گئی تھیں۔ راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور کیرتی وردھن سنگھ نے یہ معلومات فراہم کیں۔ یہ سوال ’آئی یو ایم ایل‘ رکن پارلیمنٹ عبد الوہاب نے پوچھا تھا۔
Published: undefined
راجیہ سبھا رکن عبد الوہاب نے پوچھا کہ کیا حکومت کو اگلے دن ایران پر ہونے والے حالیہ فوجی حملے کا علم تھا؟ اس کے جواب میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس کے متعلق کوئی جانکاری نہیں تھی۔ سنگھ نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے 25 اور 26 فروری 2026 کو اسرائیل کے وزیر اعظم کی دعوت پر وہاں کا سرکاری دورہ کیا تھا۔
Published: undefined
کیرتی وردھن سنگھ نے مزید کہا کہ اسرائیل دورہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر سیکورٹی، زراعت، تعلیم اور ڈیجیٹل ادائیگی جیسے کئی اہم شعبوں میں معاہدوں پر دستخط ہوئے، لیکن علاقائی حملوں سے متعلق کسی بھی موضوع پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستان مغربی ایشیا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے مغربی ایشیا کے کئی رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔
Published: undefined
وزیر مملکت برائے خارجہ امور کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ جب سے ایران جنگ شروع ہوئی ہے، تب سے وزیر اعظم مسلسل متحرک ہیں اور مغربی ایشیا کے مختلف رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے جن رہنماؤں سے بات کی ہے ان میں اسرائیل، ایران، سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور امریکہ کے سربراہان شامل ہیں۔ اسی دوران وزیر خارجہ نے بھی اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کی۔
Published: undefined
راجیہ سبھا میں کیرتی وردھن سنگھ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر حکومت نے اب تک تقریباً 4 لاکھ 75 ہزار ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا ہے اور توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے خلیجی خطے میں جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کے انتظامات کیے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ رواں سال فروری میں وزیر اعظم مودی کے دورہ اسرائیل کے وقت کو لے کر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ انہیں شاید ایران پر ہونے والے ممکنہ حملے کی پہلے سے اطلاع تھی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined