
اب این ٹی پی سی میں ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ کارپوریشن کے اوپر اس منصوبے کو ریکارڈ وقت میں مکمل کرنے کا دباؤ تھا اور یہ دباؤ اس لئے تھاکہ اس کا کریڈٹ وزیر اعظم لے سکیں۔
جبکہ سرکاری طور پر اس کی کوئی تصدیق نہیں کر رہا ہے لیکن این ٹی پی سی کے ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ان سے یہ کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم 9نومبر کو اس یونٹ کا افتتاح کریں گے ۔ این ٹی پی سی نے پہلے افتتاح کی تاریخ 7نومبر دی تھی لیکن پی ایم او چاہتا تھا کہ افتتاح کی تاریخ 9نومبر کر دی جائے جس کی وجہ وزیر اعظم کی گجرات انتخابات میں مصروفیت ممکن ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ این ٹی پی سی کے انجینئرس نے حفاظتی معیار سے سمجھوتہ کیا جس کی وجہ سے اب تک یکم نومبر کو ہونے والے دھماکہ میں 32افراد کی جان جا چکی ہے۔اس سارے معاملے میں این ٹی پی سی کے افسران کے لب سلے ہوئےہیں اور کہہ رہے ہیں کہ این ٹی پی سی کے سب سے سینئر ڈائریکٹر حادثہ کی جانچ کر رہے ہیں لیکن آزادنہ جانچ کرانے کے حق میں رائے بڑھ رہی ہے۔نام نہ بتانے کی شرط پر مزدور، یونین اور انجینئر س نے قومی آواز کو مندرجہ ذیل باتیں بتائیں:
بتا یا گیا تھا کہ چھٹایونٹ جس کو بی ایچ ای ایل نے ڈیڑھ سال کے ریکارڈ وقت میں تیار کیا ہے اس کا ٹرائل رن 31اکتوبر کو روک دیا جائے گا اور 9نومبر کو اس کے باقاعدہ افتتاح کے بعد کمرشل پروڈکشن بحال کر دیا جائے گا۔
الزام یہ ہے کہ ریکارڈ بنانے اور اپنی حصولیابیوں کے دعوؤں کو پیش کرنے کی غرض سے وزیر اعظم این ٹی پی سی پر منصوبوں کو وقت سے پہلے شروع کرنے کا غیر ضروری دباؤ بناتے ہیں ۔ان الزامات کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ کس طرح پی ایم او نے گردیپ سنگھ کو گزشتہ سال این ٹی پی سی کا چیئر مین کم منیجنگ ڈائریکٹر(سی ایم ڈی ) بنانے میں ضابطوں کو نظر انداز کیا تھا۔ کسی بھی پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ کے ہیڈ کی تقرری پبلک سیکٹر انٹر پرائز بورڈ (پی ایس ای بی ) کرتا ہے ۔ پی ایم او نے پی ایس ای بی کو نظر انداز کر تے ہوئے این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی کی تقرری کے لئے ایک خصوصی سرچ کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کمیٹی نے گردیپ سنگھ کا انتخاب کیا تھا۔ واضح رہے کہ گردیپ سنگھ گجرات اسٹیٹ الکٹریسٹی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔
اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ <a href="mailto:contact@qaumiawaz.com">contact@qaumiawaz.com</a> کا استعمالکریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔