
پریس کانفرنس کرتے ہوئے پون کھیڑا، تصویر قومی آواز/ویپن
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے مودی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے طلبا، نوجوانوں اور بے روزگاروں نے دھرمیندر پردھان کو ’ملازمت سے باہر نکال دیا‘ ہے۔ انھوں نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر اپنی کوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک کے طلبا، نوجوانوں اور بے روزگاروں کو آج بہت بہت مبارک باد، اور شکریہ کہ انہوں نے ملک کے وزیرِ تعلیم کو ملازمت سے باہر نکال دیا۔ نوجوانوں نے دھرمیندر پردھان کو ڈسمس کر دیا۔‘‘
پون کھیڑا نے دھرمیندر پردھان کو ملک کے ’سطحی تعلیمی نظام، بے روزگاری، محکمۂ تعلیم میں بدعنوانی، پولیس کی بربریت اور سرکاری بے حسی کی علامت‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ جنگ صرف ایک علامت کے خلاف نہیں تھی بلکہ اس سسٹم کے خلاف ہے جس نے 21 بچوں کی جان لے لی، اور یہ جنگ جاری رہے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جنگ اس نظام سے ہے جس نے 21 بچوں کی جان لے لی۔ بچوں کو گھسیٹا گیا، انہیں لاٹھیوں سے پیٹا گیا۔ ان پر پیلٹ گن اور شاک بیٹن کا استعمال کیا گیا، حتیٰ کہ ان کی آواز اٹھانے والے لیڈروں کو بھی سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔‘‘
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں اور جین-زی کا پہلے مذاق اڑایا گیا، لیکن وہ اپنی جدوجہد پر ڈٹے رہے۔ آخرکار حکومت کا غرور ٹوٹا اور دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ راہل گاندھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آج راہل گاندھی جی نے کہا کہ نریندر مودی ماضی ہیں اور یہ جنگ مستقبل کی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ یہ ماضی کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی نوجوانوں کو اپنا ’فرینڈ‘ کہتے ہیں، لیکن نوجوان انہیں اپنا دوست نہیں مانتے۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے پی ایم مودی کے خلاف جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر نریندر مودی واقعی نوجوانوں کے دوست ہوتے تو طلبا پر لاٹھی چارج نہ کیا جاتا، آنسو گیس کے گولے نہ داغے جاتے اور ان پر پیلٹ گن نہ چلائی جاتی۔ اگر حکومت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی تو تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا جاتا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے طلبا اور نوجوانوں کے جو مطالبات تھے، ان میں سے ابھی صرف ایک مطالبہ پورا ہوا ہے۔ 20 جولائی کو طلبا کے ساتھ ہونے والے تشدد کی جوابدہی طے کرنا انتہائی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو ملک سے معافی بھی مانگنی چاہیے۔ یہ معافی صرف 20 جولائی کو ہونے والے تشدد کے لیے نہیں بلکہ ان طلبا کے لیے بھی ہونی چاہیے، جنہوں نے اس جدوجہد کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔‘‘
پون کھیڑا نے مودی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ جنگ کا اختتام ہے۔ یہ جدوجہد کا آغاز ہے۔ جوابدہی طے کرنی ہوگی، معافی مانگنی ہوگی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کرنی ہوں گی۔‘‘ پون کھیڑا کے مطابق دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبا تحریک کی ایک بڑی کامیابی ضرور ہے، لیکن کانگریس اور طلبا کے دیگر مطالبات ابھی باقی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کے نظام میں اصلاحات، امتحان نظام میں شفافیت، طلبا کے تحفظ اور تشدد کے واقعات کی جوابدہی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔