
بھوج شالہ، تصویر سوشل میڈیا
دھار بھوج شالہ تنازعہ میں سپریم کورٹ نے پیر کے روز اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ پر فی الحال روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے مسلم فریق کو بڑی راحت بہم پہنچائی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ہدایت دی ہے کہ ہر جمعہ کی دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک احاطہ کے قریب نماز کے لیے ایک مناسب کھلی جگہ دستیاب کرائی جائے۔ ساتھ ہی عدالت نے ہندوستانی آثار قدیمہ سروے (اے ایس آئی) کو عمارت کی موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت اب 3 ہفتے بعد ہوگی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے مسلم فریق کی عرضیوں پر آج سماعت کی۔ اس سلسلے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ سبھی فریقین کی سہولت کے مطابق جلد سماعت کی جائے گی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کا جلد نمٹارہ کرنے کی کوشش ہوگی۔ مسلم فریق کی طرف سے سینئر وکیل ایڈووکیٹ حذیفہ احمدی نے دلیل پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم سے قبل کا نظام اچانک بدل دیا گیا اور انھیں سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا موقع تک نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں مذہبی سرگرمیوں سے پوری طرح باہر کر دیا گیا ہے اور ہائی کورٹ کو اپنے حکم پر کچھ وقت کے لیے روک لگانی چاہیے تھی۔
بھوج شالہ معاملہ میں مسلم فریق کی طرف سے آج کئی باتیں رکھی گئیں، جسے بنچ نے بغور سنا۔ مسلم فریق نے دلیل دی کہ مسجد میں 800 سالوں سے نماز ہو رہی تھی، جسے بند کرا دیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے سبھی فریقین کو تحمل سے کام لینے کی گزارش کی۔ انھوں نے کہا کہ عدالت میں کہی گئی باتوں کا باہر لوگ غلط مطلب نکال سکتے ہیں۔ سینئر وکیل منو سنگھوی نے بھی اس معاملہ میں اپنی بات رکھی اور کہا کہ ’’ایک آنکھ کے بدلے آنکھ دنیا کو اندھا کر دے گی۔ ہو سکتا ہے وہاں مندر تھا، قطب مینار کے بارے میں بھی دعویٰ ہے، تاج محل کے بارے میں بھی دعویٰ ہے۔ سینکڑوں سالوں تک دھار بھوج شالہ میں نماز ہوتی رہی۔ برطانوی دور کے دستاویز بھی یہی ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’نماز کے ساتھ بسنت پنچمی اور منگل کو پوجا ہونا خیر سگالی کی بہترین مثال تھی۔ اسے نہیں بدلنا چاہیے تھا۔‘‘ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ تک پرانی حالت بحال کی جائے۔ حالانکہ بنچ نے فی الحال ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔
آج ہوئی سماعت کے دوران مسلم فریق کی ایک دیگر وکیل میناکشی اروڑا نے کہا کہ ’’1995 میں دونوں فریقین میں اتفاق قائم ہوا تھا کہ دونوں خیر سگالی کے ساتھ مذہبی سرگرمیاں انجام دیں گے۔ اس حالت کو اچانک بدلنا غلط تھا۔ 800 سال پرانی مسجد ہے، وہاں نماز رکوا دینا بے سخت قدم ہے۔‘‘ اس بارے میں چیف جسٹس آف انڈیا نے سبھی فریقین کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی اور کہا کہ پہلے اس کیس میں سلمان خورشید جرح کرتے رہے ہیں اور انھوں نے خاص توجہ رکھی تھی کہ سماج میں کوئی غلط پیغام نہ جائے۔
بہرحال، اس معاملہ میں سالیسٹر جنرل نے بھی اپنی بات عدالت کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اب 2 ماہ گزر چکے ہیں۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد انتظامیہ نے اس حکم کی بنیاد پر کچھ قدم اٹھائے ہیں۔ وہاں امن کا ماحول قائم ہے۔‘‘ اس بیان پر مسلم فریقین کے وکلاء نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ حذیفہ احمد نے تو عدالت کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ پرانی حالت بحال کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے انھوں نے 1935 اور 1951 کے کچھ پرانے احکامات کا حوالہ بھی دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔