
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ سمندری واقعات کے پیش نظر حکومت ہند کی میرین ٹائم اتھارٹی نے ایک نئی سیکورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے جس کا اہم مقصد ہزاروں ہندوستانی بحری جہازوں اور حساس آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کو پختہ بنانا ہے۔
Published: undefined
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے تحت کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی ایس) نے ہندوستانی بحری جہازوں، جہاز مالکان، منیجروں اور میری ٹائم اسٹیک ہولڈروں کو خلیجی خطہ میں خاص طور پر تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کے ارد گرد کام کرتے وقت اعلیٰ ترین سطح پر چوکسی برتنے کی ہدایت کی ہے۔
Published: undefined
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے واضح کیا ہے کہ اس بدلتے ہوئے سیکورٹی ماحول میں ہندوستانی بحری جہازوں کی حفاظت اور ان کی بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا ہے کہ وہ عملے کے ارکان کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ برقرار رکھیں اور ہندوستانی بحری جہازوں کے کسی بھی واقعے کی اطلاع بلا تاخیر ڈی جی ایس کمیونیکیشن سینٹر کو دیں۔
Published: undefined
ایڈوائزری میں خاص طور پر بحری جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو سوشل میڈیا اور دیگر غیر سرکاری چینلز پر گردش کرنے والی جعلی (غیر مصدقہ) معلومات پر بھروسہ نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایڈوائزری میں وزارت خارجہ، بیرون ملک ہندوستانی مشنز اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اور دیگر مجاز اتھارٹیوں کی طرف سے جاری اطلاعات پر مسلسل نظر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
Published: undefined
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند خلیجی خطے کے واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ملک کا اہم بحری کاروبار اور توانائی در آمد اسی علاقے سے ہو کر گزرتی ہے۔ اس خطے میں تقریباً 18 ہزار ہندوستانی شہری کام کررہے ہیں جن میں 13 ہندوستانی جھنڈے والے جہازوں پر 662 ہندوستانی کارکن شامل ہیں۔
Published: undefined
وہیں تازہ ترین ایڈوائزری کا خاص مقصد حساس آبی علاقے میں کام کررہے ہندوستانی عملے کے درمیان تیاریوں کو مضبوط کرنا اور میری ٹائم سیکورٹی بیداری کو بڑھانا ہے۔ در اصل یہ ایڈوائزری ہندوستانی عملے کے ارکان کے ساتھ تجارتی جہازوں پر حال ہی میں ہوئے حملوں کے بعد جاری کی گئی ہے۔ ان میں عمان کے ساحل کے پاس ہوئی ایک مہلک واردات بھی شامل ہے جس میں 3 ملاح مارے گئے تھے۔ ٹینکر پر حملے کے بعد ملاح لاپتہ ہو گئے تھے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ اس ٹینکر میں ایرانی تیل تھا اور اس نے امریکی فوج کی ہدایات کی خلاف ورزی کی تھی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined