قومی خبریں

’کاؤنٹنگ ڈیوٹی میں مرکزی ملازمین کی تعیناتی غلط نہیں‘، ٹی ایم سی کی عرضی پر سپریم کورٹ کا تبصرہ

جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن کا ڈیوٹی پر تعینات ہر ملازم پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے، ایسی صورت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ملازم مرکز کا ہے یا ریاست کا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کی کاؤنٹنگ میں مرکزی اور پی ایس یو ملازمین کو سپروائزر بنائے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوئی۔ آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے فی الحال کوئی الگ حکم دینے سے انکار کر دیا اور الیکشن کمیشن کی یقین دہانی کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے معاملے کو نمٹا دیا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ یہ عرضی کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں ٹی ایم سی کی اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔ پارٹی نے ووٹوں کی گنتی (کاؤنٹنگ) میں صرف مرکزی اور پی ایس یو ملازمین کو سپروائزر بنانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جوئمالیہ باغچی نے معاملے کی سماعت کی۔ ٹی ایم سی کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے دلائل پیش کیے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined