
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کی کاؤنٹنگ میں مرکزی اور پی ایس یو ملازمین کو سپروائزر بنائے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوئی۔ آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے فی الحال کوئی الگ حکم دینے سے انکار کر دیا اور الیکشن کمیشن کی یقین دہانی کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے معاملے کو نمٹا دیا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ یہ عرضی کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں ٹی ایم سی کی اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔ پارٹی نے ووٹوں کی گنتی (کاؤنٹنگ) میں صرف مرکزی اور پی ایس یو ملازمین کو سپروائزر بنانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جوئمالیہ باغچی نے معاملے کی سماعت کی۔ ٹی ایم سی کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے دلائل پیش کیے۔
Published: undefined
کپل سبل نے کہا کہ ’’13 اپریل کا سرکلر ہے، لیکن ہمیں 29 تاریخ کو اس کا علم ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حیران کرنے والی بات ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہر سیٹ پر گڑبڑی کا خدشہ محسوس ہوتا ہے اور کمیشن اس طرح من مانی نہیں کر سکتا۔ سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت میں سرکلر پڑھ کر بھی سنایا۔ جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ڈیوٹی پر تعینات ہر ملازم پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے، ایسی صورت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ملازم مرکز کا ہے یا ریاست کا۔
Published: undefined
جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے کہا کہ ہر کاؤنٹنگ سنٹر میں پارٹی کے ایجنٹ بھی موجود رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مرکز یا ریاست کے افسران میں سے کاؤنٹنگ سپروائزر اور کاؤنٹنگ اسسٹنٹ کا انتخاب کرے، اس کے لیے کمیشن کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکلر میں یہ نہیں لکھا کہ صرف مرکز کے ملازمین ہی ہوں گے، لیکن اگر ایسا لکھا بھی ہوتا تب بھی اسے غلط نہیں کہا جا سکتا تھا۔
Published: undefined
سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنے ہی سرکلر کے مطابق کام کرنا چاہیے اور ریاستی حکومت کے ملازمین کو بھی تعینات کرنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش وکیل ڈی ایس نائیڈو نے کہا کہ ٹی ایم سی کا خدشہ غلط ہے اور کمیشن مکمل طور پر ضابطوں کے مطابق کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریٹرننگ آفیسر، جو ملازمین کا تقرر کرتا ہے، وہ خود ریاستی حکومت کا ہی ایک افسر ہوتا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined