قومی خبریں

نوٹ بندی: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا

جسٹس ناگرتنا نے آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 26(2) کے تحت مرکزی حکومت کے اختیارات کے معاملے پر اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو 2016 میں 1000 اور 500 روپے کے نوٹوں کو ختم کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ جسٹس ایس اے نذیر کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ جس میں جسٹس بی آر گوائی، اے ایس بوپنا، وی راما سبرامنیم اور بی وی ناگرتنا شامل تھے۔ مرکزی حکومت کے 2016 میں 1000 اور 500 روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر فیصلہ سنایا۔ اکثریتی فیصلہ کو سناتے ہوئے جسٹس گوائی نے کہا کہ فیصلہ سازی کے عمل کو صرف اس وجہ سے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ تجویز مرکزی حکومت کی طرف سے آئی تھی۔

Published: undefined

جسٹس گوائی نے کہا کہ اس معاملے میں مرکزی حکومت اور آر بی آئی کے درمیان چھ ماہ تک مشاورت ہوئی تھی۔ اکثریتی فیصلے میں کہا گیا، "ہم مانتے ہیں کہ اس طرح کے فیصلے کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان مناسب غور و خوض کیا گیا ہے۔" نوٹ بندی کا فیصلہ تناسب کے اصول پر نہیں کیا گیا۔ جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ سیکشن 26(2) کی جانچ کا مقصد نوٹ بندی کی خوبیوں و نقصان پر غور کرنا نہیں ہے، اس لیے یہ عدالت کی طرف سے کھینچی لکشمن ریکھا کے اندر ہے۔ بنچ نے کہا کہ اقتصادی پالیسی کے معاملات میں بہت تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوتا اور عدالت ایگزیکٹیو کی جگہ نہیں لے سکتی۔ جسٹس ناگرتنا نے اکثریت کے نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے الگ فیصلہ دیا۔

Published: undefined

جسٹس ناگرتنا نے آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 26(2) کے تحت مرکزی حکومت کے اختیارات کے معاملے پر اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ نومبر 2016 میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو واپس لینے کا فیصلہ اقتصادی پالیسی کے اقدامات کے سلسلے میں ایک اہم قدم تھا اور یہ فیصلہ آر بی آئی کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد لیا گیا تھا۔

Published: undefined

وزارت خزانہ نے ایک حلف نامہ میں کہا کہ نوٹ بندی ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ یہ آر بی آئی کے ساتھ وسیع مشاورت اور پیشگی تیاریوں کے بعد لیا گیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ نوٹ بندی جعلی کرنسی، دہشت گردی کی مالی معاونت، کالے دھن اور ٹیکس چوری کی لعنت سے نمٹنے کے لیے ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ 8 جولائی کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کی جعلی نوٹوں کی لعنت، بے حساب رقم کو ذخیرہ کرنے اور تخریبی سرگرمیوں کی مالی اعانت سے لڑنے کے لیے ایک بڑا قدم تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined