قومی خبریں

اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑا جھٹکا، 40 میں سے 38 عمارتوں کے انہدام کا حکم

رامپور ترقیاتی اتھارٹی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو غیر منظور شدہ قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ادارے کو 15 دن کے اندر از خود کارروائی کرنے کی مہلت دی گئی ہے

محمد علی جوہر یونیورسٹی / سوشل میڈیا
محمد علی جوہر یونیورسٹی / سوشل میڈیا 

اتر پردیش کے ضلع رامپور میں سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور اس وقت جیل میں قید اعظم خان کے اہم تعلیمی پروجیکٹ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف بڑی انتظامی کارروائی کی گئی ہے۔ رامپور ترقیاتی اتھارٹی نے یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے ان کے انہدام کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو 15 دن کے اندر ان عمارتوں کو خود ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر اتھارٹی قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں منہدم کرے گی۔

رامپور ترقیاتی اتھارٹی کے مطابق محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور صدر تحصیل کے سنگن کھیڑا گاؤں میں واقع ہے۔ سال 2024 میں اس علاقے کو اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل کیے جانے کے بعد یونیورسٹی سے عمارتوں کے منظور شدہ نقشوں سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا گیا اور اس کا تحریری جواب بھی طلب کیا گیا۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفصیلی سماعت کے دوران یونیورسٹی کو اپنا موقف پیش کرنے اور ذاتی طور پر سنے جانے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے صرف دو عمارتوں کے نقشے متعلقہ مجاز ادارے سے منظور شدہ ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتوں کی تعمیر کے لیے کسی قسم کی قانونی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔

رامپور کے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے بتایا کہ یونیورسٹی کی عمارتیں اب رامپور ترقیاتی اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ بیشتر عمارتیں بغیر منظوری تعمیر کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور فریقین کا موقف سننے کے بعد ہی انہدام کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران محمد علی جوہر یونیورسٹی کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ جب یہ عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں، اس وقت سنگن کھیڑا گاؤں رامپور ترقیاتی اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا، اس لیے اتھارٹی سے نقشوں کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ یونیورسٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمارتیں موجودہ انتظامی حدود کے نفاذ سے پہلے تعمیر ہو چکی تھیں، اس لیے انہیں موجودہ بنیادوں پر غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم رامپور ترقیاتی اتھارٹی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر کے وقت جس مجاز ادارے سے نقشوں کی منظوری لینا ضروری تھی، اس کی اجازت حاصل کرنا قانونی طور پر لازم تھا، خواہ بعد میں علاقے کا انتظامی دائرۂ اختیار تبدیل ہو گیا ہو۔ اتھارٹی کے مطابق ضلع پنچایت کے ریکارڈ میں صرف میڈیکل کالج اور تعلیمی بلاک کے نقشے منظور شدہ پائے گئے ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتوں کے لیے کسی قانونی منظوری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

خیال رہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کا قیام سال 2006 میں اتر پردیش اسمبلی کے منظور کردہ قانون کے تحت عمل میں آیا تھا۔ یہ اعظم خان کے اہم تعلیمی منصوبوں میں شمار کی جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یونیورسٹی زمین سے متعلق تنازعات، لیز کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں اور دیگر قانونی معاملات کے باعث متعدد تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔