
پارلیمنٹ کی نئی عمارت / آئی اے این ایس
پارلیمنٹ کی تعلیم سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین نے یکم جولائی کو نِیٹ یوجی پیپر لیک تنازعہ سے متعلق موجودہ امتحان کے نظام میں اہم تبدیلی کی سفارش کی ہے۔ ساتھ ہی این ٹی اے کو قانونی درجہ دیے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ میٹنگ کے دوران کمیٹی نے نیٹ یوجی امتحان کے دوبارہ انعقاد کی ستائش بھی کی۔ حالانکہ کمیٹی کے اراکین نے اگلے سال سے نیٹ یوجی امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی امتحان (سی بی ٹی) کی شکل میں منعقد کیے جانے پر غور و فکر کیا ہے اور کہا ہے کہ سماج کے پسماندہ طبقات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کی تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانوں اور کھیل سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں این ٹی اے کے افسران کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق کمیٹی کا پہلا مشورہ ہے کہ امتحان ایک کی جگہ مختلف مرحلوں میں کرایا جائے۔ دوسرا مشورہ ہے امتحان پیپر لیس ہو۔ اس کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کیا جائے۔ تیسرا مشورہ ہے کہ جے ای ای مین کی طرز پر کئی شفٹوں میں امتحان منعقد کیا جائے۔ کمیٹی کے اراکین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ایم بی بی ایس، آیوش اور نرسنگ کے الگ الگ امتحانات کرائے جائیں۔ اس کے علاوہ این ٹی اے کو مزید اختیارات دیے جائیں۔ ایجنسی کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے قانونی درجہ دینے پر بھی توجہ مرکوز کرائی گئی ہے۔ ایک مشورے میں اے آئی اور جدید تکنیک کے استعمال کی بھی بات کی گئی ہے۔
Published: undefined
اس سے قبل حکومت کے ذریعہ امتحان کے نظام میں بہتری کے لیے تشکیل دی گئی اعلی سطحی کمیٹی کے صدر اور اسرو کے سابق صدر آر رادھا کرشنن نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے فیصلے پر غور و فکر کیا۔ این ٹی اے کے ڈائریکٹر ابھشیک سنگھ اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کے سکریٹری ونیت جوشی بھی اسٹینڈنگ کمیٹی میں شامل ہوئے اور 21 جون کو منعقد ہوئے نِیٹ یوجی امتحان پر گفتگو کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مکل واسنک کی صدارت والی کمیٹی نے افسران کو ری-نیٹ امتحان کے تجربات اور اہم تبدیلی پر غور و خوض کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔ واضح رہے کہ مکل واسنک کی صدارت میں اسٹینڈنگ کمیٹی کی یہ پہلی میٹنگ تھی۔ ان سے قبل کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ کمیٹی کے صدر تھے، جن کی 21 جون کو راجیہ سبھا رکنیت کی مدت مکمل ہو گئی۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے ری-نیٹ امتحان کا جائزہ لیا ہے اور ابھشیک سنگھ نے اراکین کو امتحان اور اس کے نتائج کی اطلاع دی ہے۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے اراکین نے افسران سے دریافت کیا ہے کہ اگلے سال این ٹی اے اتنے بڑے پیمانے پر امتحان کیسے منعقد کرائے گا، جبکہ ری-نیٹ امتحان کا کامیاب انعقاد تبھی ہو سکا ہے جب سرکاری نظام متحرک تھا۔ وزیر اعظم سے لے کر افسران تک سبھی اس امتحان میں شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق اراکین پارلیمنٹ نے مشورہ دیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کا امتحان آزادانہ طریقے سے منعقد کرانے کے لیے این ٹی اے کو زیادہ اختیارات دیے جائیں اور ایجنسی کو قانونی درجہ دیا جائے۔ وزارت تعلیم نے این ٹی اے کا قیام سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت ایک آزاد اور خود مختار اہم امتحانی ادارے کے طور پر کیا تھا۔ کمیٹی کے اراکین نے امتحان مراکز پر امتحان دہندگان کے تاخیر سے پہنچنے اور ان کی عدم شمولیت پر بھی فکر کا اظہار کیا۔
Published: undefined
اعلی حکام نے کمیٹی کو 21 جون کو منعقد ہوئے ری-نیٹ امتحان کے کامیاب انعقاد اور اٹھائے گئے اہم اقدامات کی بھی اطلاع دی۔ رادھا کرشنن نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ ان کی جانب سے دی گئی سفارشات کو مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ان سفارشات کے نفاذ کی مدت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کچھ اراکین نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا یہ امتحان یو پی ایس سی کی طرز پر منعقد کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 3 مئی کو ہوئے نیٹ یوجی امتحان پیپر لیک کی خبروں کے بعد حکومت نے امتحان رد کر دیا تھا اور 21 جون کو ری-نیٹ امتحان منعقد کیا گیا۔ سی بی آئی نیٹ پیپر لیک معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined