
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار / آئی اے این ایس
ووٹر لسٹ کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) عمل کے دوران الیکشن کمیشن کے کام کاج کے حوالے سے تنازعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق انڈین ایکسپریس کے انکشافات کے بعد ہنگامہ برپا ہے۔ اب سپریم کورٹ کے وکیل برجیش سنگھ نے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر گیانیش کمار کے خلاف مجرمانہ خلاف ورزی کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ وکیل برجیش سنگھ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹرمنی کو لکھے خط میں الیکشن کمیشن کی آزادی اور غیر جانب داری پر سوال اٹھائے ہیں۔ خط میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اس طرح چلایا، جیسے تمام فیصلے صرف ایک شخص کر رہا ہو۔ ساتھ ہی اسے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں میں دیے گئے انتظامی نظام کے بھی خلاف قرار دیا۔
دراصل قواعد کے مطابق سپریم کورٹ میں کسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے اٹارنی جنرل یا سالیسٹر جنرل سے تحریری اجازت لینی ہوتی ہے۔ حالانکہ فی الحال یہ صرف کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ ہے، عدالت کا کوئی حکم نہیں ہے۔ اب اس خط پر اٹارنی جنرل کا موقف اہم ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ تنازعہ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گیانیش کمار دیگر دونوں کمشنروں کے اتفاق رائے کے بغیر ہی فیصلہ لیتے ہیں۔ رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے دیگر کمشنر سکھبیر سنگھ سدھو اور وویک جوشی کی جانب سے گزشتہ 10 مہینوں میں اس حوالے سے کم از کم 14 بار آفیشیل طور پر اعتراض درج کرائے جانے کی بات کہی گئی ہے۔
ان دونوں کمشنروں کا الزام ہے کہ کئی اہم فیصلے اور حکم ان کی اطلاع کے بغیر ہی جاری کیے گئے ہیں۔ ان اعتراضات میں ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 میں تبدیلی، انتخاب ڈاٹا بیس سینٹرلائزیشن اور ایس آئی آر کے دوران ووٹر نام شامل کرنے، ہٹانے اور بحال کرنے سے وابستہ مسائل شامل ہیں۔ فارم 6 میں تبدیلی کو دونوں کمشنروں نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں دونوں کمشنروں نے الیکشن کمیشن کے نئے سینٹرلائزڈ آئی ٹی سسٹم (ای سی آئی نیٹ) پر سوال اٹھائے۔ ساتھ ہی دونوں کمشنروں نے انتظامی تنازعہ کی شکایت ملک کے کابینی سکریٹری سے بھی تحریری طور پر کی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مئی سے اگست کے درمیان تقریباً 4 مہینوں میں ایک بھی داخلی میٹنگ منعقد نہیں کی گئی۔ وہیں تنازعہ بڑھنے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر صفائی بھی دی گئی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سمیت کمیشن کے سبھی فیصلے تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری سے لیے گئے تھے۔ کمیشن کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ داخلی میٹنگوں میں الگ الگ رائے دفتری مرحلے کا اہم حصہ ہے۔
حالانکہ چیف الیکشن کمشنر کو لے کر ہونے والے انکشافات اور دونوں کمشنروں کے الزامات انتخابی عمل پر سنگین سوال اٹھاتے ہیں۔ اس معاملے کو لے کر پورا اپوزیشن بھی متحد ہے۔ کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر الیکشن کمیشن کو ہائی جیک کرنے کا الزام لگایا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہمیں اسے معمولی معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہیں راہل گاندھی نے اسے آئین پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے غداری قرار دیا۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سے لے کر سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی تک اس معاملے کو لے کر مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہیں۔ وہیں اب اٹارنی جنرل سے گیانیش کمار کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔ ایسے میں آگے کی صورتحال اٹارنی جنرل کے فیصلے اور اگر معاملہ آگے بڑھتا ہے تو متعلقہ عدالتی کارروائی سے طے ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔