
ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس / DrNareshkr@
دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے جمنا ندی کی صفائی معاملہ پر ریکھا گپتا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس ندی کی صفائی کے نام پر صرف ڈرامہ بازی اور سیاست کی جا رہی ہے، زمینی سطح پر کوئی مؤثر کام دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت نمائشی پروگراموں اور اشتہار بازی کے بجائے جمنا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ حال ہی میں بی جے پی کی جانب سے جمنا کی صفائی کے نام پر ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں وزیر اعلیٰ، وزراء، تنظیمی عہدیداران اور سرکاری عملہ شریک ہوا، لیکن خالی بوتلیں اور پلاسٹک کی تھیلیاں اٹھانا جمنا کی حقیقی صفائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمنا ندی کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے، جبکہ دریا کی حالت مسلسل بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ حلف برداری کے دن وہ جمنا گھاٹ گئی تھیں، آرتی کی تھی اور جمنا کی صفائی کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن تقریباً ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود جمنا پہلے سے زیادہ آلودہ ہو چکی ہے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے کہا کہ آج بھی جمنا میں آلودگی کا جھاگ دیکھا جا سکتا ہے، جسے حکومت کیمیکلز کے ذریعے عارضی طور پر ختم کر کے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن بنیادی مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریکھا گپتا حکومت نے 26 اکتوبر کو دعویٰ کیا تھا جمنا کا پانی پینے کے قابل ہو گیا ہے، اور بی جے پی کے بعض اراکین اسمبلی نے وہاں پانی پی کر بھی دکھایا تھا۔ وزیر اعظم کے بارے میں بھی کہا گیا تھا کہ وہ چھٹھ پوجا کے موقع پر جمنا میں اشنان کریں گے، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کمار نے جمنا پر کروز چلانے کے منصوبہ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریکھا گپتا اور آبی وسائل کے وزیر پرویش ورما کے درمیان کروز چلانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے کروز لا کر کھڑا کر دیا گیا، لیکن آج تک اسے چلایا نہیں جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جمنا کی صفائی کے بجائے تشہیری منصوبوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کا کہنا ہے کہ جمنا کی صفائی کے لیے تکنیکی بنیادوں پر کام کرنے اور سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ دہلی میں پیدا ہونے والے تقریباً 80 فیصد آلودہ پانی اور سیوریج کا اخراج جمنا میں ہوتا ہے، جبکہ جمنا کا صرف 2 فیصد حصہ ہی دہلی سے گزرتا ہے۔ اس کے باوجود 23 گندے نالے براہ راست ندی میں گر رہے ہیں۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں 37 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) ہیں، جن میں سے صرف 23 کام کر رہے ہیں، جبکہ 14 بند پڑے ہیں۔ ایک مطالعہ کے مطابق جمنا کی مؤثر صفائی کے لیے مزید 59 ایس ٹی پی اور 10 غیر مرکزی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ضرورت ہے، لیکن اس سمت میں کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں روزانہ تقریباً 3596 ایم ایل ڈی سیوریج پیدا ہوتا ہے، جبکہ موجودہ ایس ٹی پی کی مجموعی صلاحیت 3474 ایم ایل ڈی ہے۔ اس طرح تقریباً 741 ایم ایل ڈی آلودہ پانی بغیر صفائی کے جمنا میں چلا جاتا ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کمار نے قومی ادارۂ آبیات (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرولوجی) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمنا میں ماحولیاتی بہاؤ برقرار رکھنے کے لیے 437 ایم جی ڈی پانی کی ضرورت ہے، جبکہ صرف 190 ایم جی ڈی پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ اس طرح 247 ایم جی ڈی پانی کی کمی برقرار ہے، جس کے باعث ندی میں مطلوبہ ماحولیاتی بہاؤ قائم نہیں ہو پا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اسٹڈی کے مطابق جمنا کے پانی کو نہانے کے قابل بنانے کے لیے بی او ڈی کی سطح 3 ملی گرام فی لیٹر سے کم اور ڈی او کی سطح 5 ملی گرام فی لیٹر سے زیادہ ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے اضافی 7610 ایم جی ڈی پانی کی ضرورت ہے، تبھی جمنا کا پانی نہانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر نریش کمار نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جمنا کی صفائی کے نام پر تقریباً 1500 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود صورت حال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے خرچ کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کے سامنے حقیقت آ سکے اور جمنا کے نام پر ہونے والے مبینہ گھوٹالے کا پردہ فاش ہو۔ انہوں نے ریکھا گپتا حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح جمنا کے نام پر سیاست کرنے کے سبب اروند کیجریوال حکومت کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اسی طرح بی جے پی حکومت کو بھی دہلی سے رخصت ہونا پڑے گا اور ماں جمنا انہیں معاف نہیں کرے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined