قومی خبریں

دہلی کی سانسوں کا حساب، پی ایم 10 آلودگی 80 دن سے گزشتہ سال کے مقابلے میں بدتر: اجے ماکن

اجے ماکن نے کہا کہ موسم کا اثر نکالنے کے باوجود دہلی کی پی ایم 10 آلودگی 80 دن سے گزشتہ سال سے بدتر ہے؛ بوانا میں اے کیو آئی 240 ہے جبکہ 2.7 لاکھ افراد خراب ہوا والے مانیٹروں کے قریب ہیں

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے&nbsp;سینئر لیڈر اجے&nbsp; ماکن / تصویر ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس کے سینئر لیڈر اجے  ماکن / تصویر ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 80 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور اب تک ایک دن کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔

اجے ماکن نے اپنی ایکس پوسٹ میں اس مہم کو ’سانس، ڈے 99‘ کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے مسلسل 80 دن بدتر رہی ہے۔

ماکن کے مطابق رواں سال اب تک دستیاب 229 دنوں کے اعداد و شمار میں 156 دن ایسے رہے جب دہلی میں پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ گزشتہ روز تک یہ تعداد 228 میں سے 155 دن تھی۔ ماکن کا کہنا ہے کہ اس حساب کے بعد بھی پی ایم 10 کی سطح کا مسلسل گزشتہ سال سے زیادہ رہنا دہلی میں آلودگی کے مستقل مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

تازہ رپورٹ میں باوانا کی صورت حال کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ ماکن کے مطابق باوانا میں آج صبح اے کیو آئی 240 ریکارڈ کیا گیا، جو ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق سی پی سی بی کے پیمانے پر اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ماکن نے بتایا کہ بوانا کے متعلقہ مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار 162 افراد رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔

ان کے مطابق پوری دہلی میں تقریباً 2.7 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اجے ماکن نے فضائی آلودگی کے روزانہ ریکارڈ ہونے والے اعداد و شمار کو مسلسل عوام کے سامنے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے اور ریکارڈ کیے جا رہے ہیں، انہیں خاموشی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق موازنہ گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں کے اعداد و شمار سے کیا گیا ہے، جبکہ یکساں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ماکن کی رپورٹ میں سی پی سی بی کے ڈیٹا اور موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے ’ای آر اے 5‘ ڈیٹا کا حوالہ دیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔