قومی خبریں

شرجیل امام کی عبوری ضمانت منسوخ کرانے کے لیے عدالت پہنچی دہلی پولیس، شرائط کی خلاف ورزی کا الزام

ضمانت کی شرائط میں اکثر میڈیا سے بات چیت نہ کرنے کی شرط شامل ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں ملزم کو عوامی بیان دینے یا معاملے پر تبصرہ کرنے سے روکا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شرجیل امام، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

شرجیل امام، تصویر/آئی اے این ایس

 

دہلی پولیس نے فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سازش کے معاملے میں ملزم شرجیل امام کو دی گئی عبوری ضمانت منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دہلی پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ عارضی رہائی کے دوران میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کر کے شرجیل امام نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ پولیس کے مطابق شرجیل امام کو اپنے چچا زاد بھائیوں کی شادی میں شرکت کے لیے عارضی طور پر رہا کیا گیا تھا۔ اسی دوران میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کو ضمانت کی شرائط کے خلاف قرار دیتے ہوئے دہلی پولیس نے عدالت سے ان کی عبوری ضمانت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس نے دلیل دی ہے کہ شرجیل امام نے عدالت سے ملنے والی آزادی کا غلط استعمال کیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا کہ ’’ملزم کے رویے سے واضح ہے کہ وہ اس عدالت سے ملنے والی آزادی کا غلط استعمال کر رہا ہے۔‘‘ کڑکڑڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے شرجیل امام کو اپنے 2 چچیرے بھائیوں کی شادیوں میں شرکت کے لیے 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک عبوری ضمانت دی تھی۔ واضح رہے کہ شرجیل امام کو اس سے قبل اپنے بھائی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے رواں سال 20 مارچ سے 30 مارچ تک عبوری ضمانت دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ضمانت کی شرائط میں اکثر میڈیا سے بات چیت نہ کرنے کی شرط شامل ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں ملزم کو عوامی بیان دینے یا معاملے پر تبصرہ کرنے سے روکا جاتا ہے۔ پولیس نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ میڈیا سے بات چیت ضمانت کی شرائط کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں اس وقت تشدد ہوا تھا جب شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے اور قومی شہری رجسٹر یعنی این آر سی کے خلاف احتجاج چل رہے تھے۔ اس مبینہ بڑی سازش کے کیس کی جانچ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے کی تھی۔ اس معاملے میں سماجی کارکن خالد سیفی اور سابق عآپ کونسلر طاہر حسین سمیت کئی دیگر لوگوں کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ شرجیل امام کو اس معاملے میں 25 اگست 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ عمر خالد کی گرفتاری 13 ستمبر 2020 کو ہوئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔