قومی خبریں

شراب پالیسی معاملہ: کیجریوال اور منیش سسودیا بری، عدالت نے کہا بغیر ثبوت الزام ثابت نہیں ہوتے

دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے شراب پالیسی کیس میں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو بری کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کے پیش کردہ ثبوت ناکافی ہیں اور محض دعووں کی بنیاد پر الزامات قائم نہیں رہ سکتے

منیش سسودیا اور اروند کیجریوال، تصویر آئی اے این ایس
منیش سسودیا اور اروند کیجریوال، تصویر آئی اے این ایس 

نئی دہلی میں دہلی کی متنازعہ شراب پالیسی سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں راؤز ایونیو عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کمزور اور ناکافی ہیں، اس لیے محض الزامات کی بنیاد پر مقدمہ قائم نہیں رہ سکتا۔

عدالت نے سب سے پہلے محکمہ آبکاری کے سابق کمشنر کلدیپ سنگھ کو بری کیا، جن پر پالیسی کی تشکیل اور اس کے نفاذ میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد تھے۔ اس کے بعد منیش سسودیا کو راحت دی گئی اور آخر میں اروند کیجریوال کو بھی الزامات سے آزاد کرنے کا حکم سنایا گیا۔ فیصلے کے دوران عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ میں کئی اہم نکات پر تسلی بخش مواد پیش نہیں کیا گیا۔

Published: undefined

جج نے اپنے تبصرے میں کہا کہ کسی بھی عوامی یا آئینی عہدے پر فائز شخصیت کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے وقت مضبوط اور قابل اعتماد ثبوت ضروری ہوتے ہیں۔ صرف دعوے یا قیاس آرائیاں عدالت کے لیے کافی نہیں ہو سکتیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ فوجداری قانون میں ثبوت کی کسوٹی انتہائی سخت ہوتی ہے اور استغاثہ کو اپنا مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا ہوتا ہے۔

یہ معاملہ دو ہزار بائیس تئیس کی دہلی ایکسائز پالیسی سے جڑا ہوا تھا۔ اسی پالیسی کی بنیاد پر سی بی آئی نے مقدمہ درج کیا تھا جبکہ بعد میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت الگ کارروائی شروع کی۔ اس کیس میں عام آدمی پارٹی کے کئی رہنما گرفتار ہوئے اور طویل عرصے تک جیل میں رہے۔ متعدد بار ضمانت کی درخواستیں مسترد ہوئیں، تاہم بعد میں کچھ رہنماؤں کو ضمانت مل گئی تھی۔

Published: undefined

فیصلے کے بعد اروند کیجریوال نے کہا کہ ان کے خلاف پورا مقدمہ بے بنیاد تھا اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اور پارٹی کو کمزور کرنے کے لیے سازش رچی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں چھ ماہ تک جیل میں رکھا گیا جبکہ منیش سسودیا تقریباً دو سال تک قید رہے۔

کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ ملک کو مہنگائی، بے روزگاری، آلودگی اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل کا سامنا ہے اور حکومتوں کو اپنی توجہ ان امور پر مرکوز کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق سچائی بالآخر غالب آتی ہے اور آئین کی روح ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔

Published: undefined

ادھر سی بی آئی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں اور تفصیلی حکم نامہ کا جائزہ لینے کے بعد اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے پر غور کرے گی۔ تحقیقاتی ایجنسی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ قانونی پہلوؤں کا مکمل مطالعہ کیا جائے گا۔

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو عام آدمی پارٹی کے لیے بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس مقدمے نے طویل عرصے تک دہلی کی سیاست کو متاثر کیے رکھا۔ عدالت کے فیصلے نے ایک بار پھر اس اصول کو اجاگر کیا ہے کہ الزام چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اسے ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ناگزیر ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined