قومی خبریں

دہلی حادثہ: نئے سال کا جشن منانے گئے تھے مرتھل، میوزک اور شراب میں مست تھے نوجوان

پولس ذرائع کے مطابق سلطان پوری سڑک حادثہ کے تمام ملزمین 31 دسمبر کی رات ڈنر کے لئے مرتھل گئے تھے۔ واپسی کے دوران یہ واقعہ  پیش آیا۔

<div class="paragraphs"><p>ملزمان کی کار، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ملزمان کی کار، تصویر آئی اے این ایس

 

دہلی کے سلطان پوری علاقے میں سڑک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والی لڑکی کے رشتہ داروں نے پولیس پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ نیوز پورٹل اے بی پی پر شائع خبر کے مطابق جان کی بازی ہارنے والی لڑکی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کو بچا رہی ہے جبکہ پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سلطان پوری سڑک حادثہ کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

Published: undefined

پولس ذرائع کے مطابق سلطان پوری سڑک حادثہ کے تمام ملزمین 31 دسمبر کی رات ڈنر کے لئے مرتھل گئے تھے۔ تاہم وہاں بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ دہلی واپس آگئے۔ اگر پولیس ذرائع کی مانیں تو ملزم نے کار میں ہی شراب نوشی کی تھی اور سنگھو سرحد کے راستے سلطان پوری علاقے میں واپس  آئے تھے۔ پولیس نے سلطان پوری سڑک حادثہ میں 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

Published: undefined

پولیس کی پوچھ گچھ میں ملزمان نے بتایا کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کوئی گاڑی کے نیچے پھنس گیا ہے اور وہ تقریباً 15 منٹ تک اسی طرح گاڑی چلاتے رہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ جب انہیں معلوم ہوا تو وہ خوفزدہ ہوگئے اور علاقے میں گھومنے لگے۔ جب وہ مین روڈ پر آئے تو پکڑے جانے کے ڈر سے لاش کو کار سے الگ کر کے فرار ہو گئے۔ پورٹل پر شائع خبر کے مطابق یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گاڑی کی کھڑکیاں بند تھیں اور اونچی آواز میں میوزک چل رہا تھا۔

Published: undefined

پولیس کو 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات دہلی کے سلطان پوری علاقے میں کانجھا والا روڈ پر سڑک حادثے کی اطلاع ملی۔ فون کرنے والے نے بتایا تھا کہ کانجھا والا روڈ پر لڑکی کی لاش پڑی ہے۔ کچھ عینی شاہدین نے اسکوٹی پر سوار ایک لڑکی کو کار سے گھسیٹتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس کیس میں پولیس نے چند گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined