قومی خبریں

دہلی-این سی آر میں 800 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کے معاملے پر ہائی کورٹ کا نوٹس، حکومت اور پولیس سے جواب طلب

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی-این سی آر میں 800 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی خبروں پر دہلی پولیس، مرکزی و ریاستی حکومت اور قومی انسانی حقوق کمیشن کو نوٹس جاری کر کے چار ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں 800 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کے دعوے سے متعلق دائر نئی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس، مرکزی حکومت، دہلی حکومت اور قومی انسانی حقوق کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے معاملے کی آئندہ سماعت مارچ میں مقرر کی ہے۔

Published: undefined

یہ عرضی جئیتا دیب سرکار کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ بدھ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس دیویندر کمار اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنا تفصیلی جواب عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔

اس سے قبل 11 فروری کو ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے بھی عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب مانگا تھا۔ گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قومی راجدھانی میں محض 15 دن کے اندر 800 سے زیادہ افراد لاپتا ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں 191 نابالغ اور 616 بالغ افراد شامل تھے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر تشویش پھیل گئی تھی۔

Published: undefined

6 فروری کو دہلی پولیس نے مذکورہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اعداد و شمار کو غلط انداز میں پیش کر کے لوگوں میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر گمراہ کن معلومات پھیلا کر دہشت کا ماحول بنانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تاہم 9 فروری کو قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ کمیشن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر رپورٹ میں دی گئی معلومات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں کمیشن نے دہلی حکومت کے چیف سکریٹری اور دہلی پولیس کمشنر کو نوٹس جاری کر کے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

Published: undefined

ادھر اس معاملے کو لے کر اپوزیشن نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عام آدمی پارٹی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی حفاظت میں حکومت کے چاروں انجن ناکام ہو گئے ہیں، اس لیے عوام کو خود بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

اب ہائی کورٹ کے نوٹس کے بعد متعلقہ اداروں کے جواب پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ یہ معاملہ شہریوں کی سلامتی اور انتظامی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined