
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) سے قبل ٹیلیگرام پر عارضی پابندی عائد کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے سماعت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ وہ نہ صرف اختیار کے استعمال بلکہ اس کے طریقۂ کار اور ہنگامی اختیارات کے استعمال کی ضرورت کا بھی جائزہ لے گی۔
Published: undefined
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ سکریٹری کی سربراہی میں قائم جائزہ کمیٹی نے ٹیلیگرام کے نمائندوں کا موقف سنا اور ان کی دلیلوں کو ریکارڈ پر لیا ہے۔ دوسری جانب ٹیلیگرام کی طرف سے سینئر وکیل دھرو مہتا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر پابندی کی بنیاد ہی برقرار نہ رہے تو اس کی بنیاد پر جاری کیا گیا حکم بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا نیٹ جیسے امتحان کو ملک کی سالمیت اور خودمختاری سے جوڑنا مناسب ہے۔
Published: undefined
عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ ایک واقعے کو روکنے کے لیے پورے پلیٹ فارم کو بند کرنا ایک اہم سوال ہے۔ عدالت نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کی دفعہ انہتر اے کے تحت اختیارات ضرور موجود ہیں، لیکن ان کا دائرۂ استعمال کس حد تک ہو سکتا ہے، یہی اصل معاملہ ہے۔
تشار مہتا نے عدالت میں کہا کہ ٹیلیگرام کی رازداری پالیسی کے مطابق کھاتہ حذف ہونے کی صورت میں تمام پیغامات اور مواد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف رپورٹوں میں اس پلیٹ فارم کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے پسندیدہ ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور اس کا مخصوص ڈھانچہ دیگر شعبوں میں بھی چیلنج پیدا کرتا ہے۔
Published: undefined
عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ 150 ملین صارفین کے حقوق کو صرف اس بنیاد پر کیسے محدود کیا جا سکتا ہے کہ کچھ افراد امتحان دے رہے ہیں۔ اس پر سالیسٹر جنرل نے جواب دیا کہ عوامی مفاد اور ممکنہ نقصان کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
سماعت کے دوران حکومت نے دعویٰ کیا کہ ٹیلیگرام کے بعض فیچر امتحانی پرچوں کے غلط استعمال اور گمراہ کن سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جبکہ عدالت نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ آیا واقعی ایسی صورت حال تھی جس کے باعث ہنگامی اختیارات استعمال کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ تمام دلائل سننے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined