.jpg?rect=0%2C0%2C400%2C225)
پرویش ورما، تصویر آئی اے این ایس
دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز عام آدمی پارٹی کے کارکن صاحب سنگھ کی درخواست پر دہلی پولیس اور حکومت دہلی میں وزیر پرویش ورما کو نوٹس جاری کیا۔ الزام ہے کہ گزشتہ ماہ سڑک کے معائنے کے دوران ورما نے صاحب سنگھ کو تھپڑ مارا تھا۔ سنگھ نے پولیس تحفظ اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ جسٹس سچن دتہ نے معاملے کی سماعت کی اور دہلی پولیس کو اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لیے ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ معاملے کی اگلی سماعت نومبر میں ہوگی۔ اس دوران درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مدعا علیہ کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔
نیوز پورٹل ’ٹی وی9 بھارت ورش‘ میں شائع خبر کے مطابق عام آدمی پارٹی کے کارکن صاحب سنگھ نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے اس الزام کی غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی حکومت کے وزیر پرویش صاحب سنگھ ورما نے 27 ستمبر کو مغربی دہلی میں سڑک کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا تھا، اور اسی دوران انہیں تھپڑ مارا اور مارپیٹ کی۔ صاحب سنگھ نے خود کے لیے اور اپنے خاندان کے لیے فوری سیکورٹی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ واقعے کے بعد انہیں دھمکیاں اور خوف زدہ کرنے والے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ صاحب سنگھ نے دہلی ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ الزامات، سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک شواہد اور پولیس ریکارڈ کی جانچ کے لیے ایک سابق ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں آزاد اور عدالتی نگرانی میں تفتیش کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے پر غور کرے۔
صاحب سنگھ کے مطابق وہ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ کے ساتھ آؤٹر رنگ روڈ پر سڑک کی تعمیر کے کام کا معائنہ کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ کام میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا تھا اور کئی خامیاں تھیں، اسی دوران ورما اور دیگر افراد نے مبینہ طور پر ان کا سامنا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں تھپڑ مارے گئے، گالیاں دی گئیں اور ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، جبکہ واقعے کی ریکارڈنگ والا ان کا موبائل فون زبردستی چھین لیا گیا اور اسے نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایک نامعلوم شخص نے ان کے پرائیویٹ پارٹس پر حملہ کیا۔ صاحب سنگھ نے وکاس پوری پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی، جس کے بعد بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 115(2) کے تحت نان کاگنیزیبل رپورٹ (این سی آر) درج کی گئی تھی۔ حالانکہ سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ این سی آر میں ان کے تمام الزامات شامل نہیں کیے گئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔