
دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا / آئی اے این ایس
دہلی حکومت نے ’اسلامک ایتھکس آف وارفیئر‘ نامی کتاب میں موجود مواد پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کتاب میں مذہب خاص کی شدت پسندی اور بغاوت کا ذکر ہے، جس کے ذریعہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی بات کی گئی ہے۔ دہلی حکومت کے محکمہ داخلہ نے اس سلسلے میں ایک حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے علم میں آیا ہے کہ کتاب ’اسلامک ایتھکس آف وارفیئر‘ افراد، خاص طور سے مخصوص طبقے کو مسلح بغاوت کی طرف اکساتی ہے اور شدت پسند نظریات کو فروغ دیتی ہے جو عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
Published: undefined
دہلی حکومت کے حکم نامہ کے مطابق کتاب کے مواد اور معتبر خفیہ معلومات کی بنیاد پر دستیاب شواہد، بلا شبہ اشارہ کرتے ہیں کہ تشدد کی وکالت کرنے کے لیے مذہبی کتابوں کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ اشتعال انگیز مواد کے لئے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ دہلی حکومت نے اپنے حکم میں مزید تحریر کیا کہ ’’کتاب نہ صرف دیگر مذاہب کے خلاف جنگ کی وکالت کرکے توحید کی برتری کو فروغ دیتی ہے اور دلیل دیتی ہے، بلکہ مختلف مذہبی گروپوں کے درمیان دشمنی، نفرت یا بدگمانی پیدا کرنے والے دیگر مذہبی گروپوں کے اعتقادات پر سرگرم طور سے حملہ کرتی ہے۔‘‘
Published: undefined
سرکاری حکم میں مزید لکھا گیا ہے کہ مبینہ کتاب ’اسلامک ایتھکس آف وارفیئر‘ کی شناخت کی گئی ہے جو ملک میں مذہبی گروپوں کے درمیان دشمنی، نفرت، بدخواہی یاد بدنیتی کے جذبات کو فروغ دے رہی ہے اور اسے انڈین سول ڈیفنس کوڈ، 2023 کی دفعہ 98 کے تحت ’ضبط‘ قرار دینے کی ضرورت ہے۔ جبکہ بھارتیہ نیائے سہنتا (بی این ایس)، 2023 کی دفعہ 196، 197 (1) (جی) اور 197 (1) (جے) کے التزامات کے تحت ایسے خیالات کو قصوروار پایا گیا ہے۔
Published: undefined
دوسری طرف ’ایمیزون‘ پر دستیاب معلومات کے مطابق یوسف الحاج احمد کی تصنیف ’اسلامک ایتھکس آف وارفیئر‘ دراصل ’مسلم خواتین سے متعلق اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا‘ سیریز کا حصہ ہے۔ یہ سلسلہ زندگی اور مذہب کے اُن معاملات پر روشنی ڈالتا ہے جو ایک ماں، استاد اور پرورش کرنے والے کے طور پر عورت کے کردار کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا