قومی خبریں

راشن کارڈ کے لیے آمدنی کی حد بڑھانا غریبوں کے حقوق پر ضرب: ڈاکٹر نریش کمار

دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے راشن کارڈ کے لیے سالانہ آمدنی کی حد 1.20 لاکھ سے بڑھا کر 2.50 لاکھ روپے کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غریب خاندانوں کے مفادات کے خلاف قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر نریش کمار</p></div>

ڈاکٹر نریش کمار

 

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی حکومت کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس کے تحت نئے راشن کارڈ کے لیے سالانہ آمدنی کی حد 1.20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2.50 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ راشن نظام کے بنیادی مقصد کو کمزور کرتا ہے اور واقعی مستحق و غریب خاندانوں کے حقوق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

Published: undefined

ڈاکٹر نریش کمار نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ راشن تقسیم کا نظام بنیادی طور پر معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقوں کو سہارا فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن آمدنی کی حد میں نمایاں اضافے کے بعد مستفید ہونے والوں کا دائرہ اتنا وسیع ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں کے مفادات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کی موجودگی میں حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ کمزور اور ضرورت مند افراد کو ترجیح دے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سالانہ 2.50 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے خاندان بھی اسی زمرے میں شامل ہو جائیں گے تو حکومت غریب ترین خاندانوں کو ترجیحی بنیادوں پر فائدہ پہنچانے کو کیسے یقینی بنائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ نئے معیار کے تحت کتنے اضافی خاندان راشن کارڈ کے اہل بن جائیں گے اور اس فیصلے کا موجودہ مستفیدین پر کیا اثر پڑے گا۔

Published: undefined

کانگریس رہنما نے کہا کہ دہلی حکومت نے اب تک خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کے راشن کارڈ کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نئے راشن کارڈ جاری کرنے کی تشہیر میں مصروف ہے، لیکن انتہائی غریب خاندانوں کے مسائل اور خدشات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، حالانکہ یہی طبقہ سرکاری امداد کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے دعویٰ کیا کہ حکومت راشن کارڈ کے حصول کو آسان بنانے کے دعوے کر رہی ہے، مگر آمدنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہی درخواست گزاروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پہلے آن لائن درخواست دینی پڑتی ہے اور اس کے بعد اصل دستاویزات کی جانچ کے لیے بار بار سب ڈویژنل مجسٹریٹ دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جہاں انہیں طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ متعدد شہریوں نے شکایت کی ہے کہ دستاویزات کی تصدیق مکمل ہونے کے باوجود 15 سے 20 دن تک آمدنی کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے راشن کارڈ کی درخواست کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ راشن کارڈ چند لمحوں میں جاری ہو رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں عام شہری صرف آمدنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی حکومت اپنی راشن کارڈ پالیسی میں مکمل شفافیت لائے، خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے اور آمدنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عمل کو فوری طور پر آسان اور مؤثر بنائے تاکہ حقیقی ضرورت مند شہری فلاحی منصوبوں کے فوائد سے محروم نہ رہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined