قومی خبریں

دہلی اے کیو آئی: پابندی کے پہلے دن 68 لاکھ روپے کا جرمانہ وصول، سرحدوں سے 1539 گاڑیاں واپس لوٹائی گئیں

دہلی انتظامیہ نے ’سرمائی ایکشن پلان‘ کے پہلے دن 68.4 لاکھ کا جرمانہ اور ماحولیاتی معاوضہ فیس عائد کی۔ اس دوران تقریباً 15 ہزار گاڑیوں کی جانچ کی گئی، سرحدی علاقوں سے 1539 گاڑیوں کو واپس بھی لوٹایا گیا

<div class="paragraphs"><p>دہلی میں فضائی آلودگی / آئی اے این ایس</p></div>

دہلی میں فضائی آلودگی / آئی اے این ایس

 
IANS

راجدھانی دہلی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ریکھا گپتا حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ دہلی میں گریپ-1 نافذ کیا جا چکا ہے، جس کے تحت کئی طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس دوران یکم نومبر 2026 سے حکومت نے سخت قوانین بھی نافذ کیے ہیں، تاکہ اے کیو آئی کو مزید خراب ہونے سے کسی حد تک روکا جا سکے۔ اسی سلسلے میں دہلی پولیس اور انتظامیہ مسلسل ان گاڑیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، جس کے ذریعے آلودگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ دہلی انتظامیہ نے ’سرمائی ایکشن پلان‘ کے پہلے دن 68.4 لاکھ روپے کا جرمانہ اور ماحولیاتی معاوضہ فیس عائد کی ہے۔ اس دوران تقریباً 15 ہزار گاڑیوں کی جانچ کی گئی، سرحدی علاقوں سے 1539 گاڑیوں کو واپس لوٹا دیا گیا اور آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی سی) کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر 566 گاڑیوں کے چالان کاٹے گئے۔

یکم نومبر اتوار کی شام 5 بجے تک دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی رقم میں ’پی یو سی سی‘ کی خلاف ورزی پر 56.6 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ دہلی میں داخلے سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ اور تعمیرات و انہدام سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی پر 9.8 لاکھ روپے کا ماحولیاتی معاوضہ فیس لگایا گیا ہے۔ دہلی سے باہر رجسٹرڈ ’بغیر بھارت اسٹیج-6‘ (غیر بی ایس-6) معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کے داخلے پر عائد پابندی کے تحت دہلی ٹریفک پولیس اور محکمۂ ٹرانسپورٹ نے 14930 گاڑیوں کی جانچ کی، جن میں سے تقریباً 10.31 فیصد گاڑیوں کو واپس لوٹا دیا گیا۔ کارروائی کے دوران127 چالان جاری کیے گئے اور 62 گاڑیوں کو ضبط بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ دہلی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے نافذ کی گئی نئی پابندیوں کے پہلے ہی دن شہر کی سرحدوں پر ٹریفک جام دیکھنے کو ملا۔ اس دوران ہوا کا معیار ’خراب‘ زمرے میں پہنچ گیا۔ یہ اس موسم کی سب سے خراب سطح اور گزشتہ 198 دنوں کی بدترین صورتحال ہے۔

قومی راجدھانی میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی ٹریفک پولیس اور نفاذی دستوں کی جانب سے جانچ کیے جانے کی وجہ سے دہلی-گروگرام اور دہلی-نوئیڈا سرحد سمیت شہر کے کئی داخلی راستوں پر شدید ٹریفک جام رہا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ٹول بوتھ اور این سی آر کے دیگر داخلی راستوں کے قریب گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ مقررہ اخراجی معیارات پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کو افسران کی جانب سے روکے جانے کی وجہ سے ٹریفک جام میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں نافذ کی گئی ہیں، جب اتوار کو دہلی کا فضائی معیار انڈیکس (اے کیو آئی) 261 درج کیا گیا، جو ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔

شہر کے 57 نگرانی مراکز میں سے 22 میں ہوا کا معیار ’انتہائی خراب‘ زمرے میں رہا، جب کہ 21 مراکز میں یہ ’خراب‘ اور باقی 14 مراکز میں ’اوسط‘ زمرے میں درج کیا گیا۔ سردیوں کے موسم میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ ان میں بی ایس-4 یا اس سے پرانے اخراجی معیارات والی دہلی سے باہر رجسٹرڈ گاڑیوں پر پابندی، تعمیراتی سرگرمیوں پر روک، پارکنگ فیس دوگنی کرنا اور سرکاری و نجی دفاتر میں ملازمین کی جسمانی موجودگی 50 فیصد تک محدود کرنا شامل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔