قومی خبریں

فوجی افسران کو کتاب کی اشاعت سے قبل وزارت دفاع کی لینی ہوگی منظوری، حکومت نئے قوانین بنانے میں مصروف!

کتاب کی اشاعت سے قبل مسودے کی منظوری کے لیے ایک واضح طریقہ کار طے کیا جائے گا، جس میں وزارت دفاع یا آرمی ہیڈ کوارٹر سے اجازت کو لازمی بنایا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>آر می چیف جنرل منوج مکند نروَنے، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

آر می چیف جنرل منوج مکند نروَنے، تصویر آئی اے این ایس

 

سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروَنے (ریٹائرڈ) کی غیر مطبوعہ کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘ کے متعلق اٹھنے والے تنازعہ کے درمیان اب وزارت دفاع ایک اہم قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزارت دفاع فوجی خدمات میں مصروف اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے ذریعہ لکھی جانے والی کتابوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز تیار کر رہی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق حال ہی میں اس تعلق سے ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں نئے قوانین کا مسودہ تیار کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ مجوزہ ہدایات میں موجودہ سروس رولز اور آفیشیل سیکرٹس ایکٹ (او ایس اے) کے التزامات کو کو شامل کیا جائے گا۔

Published: undefined

اگر کسی کتاب میں فوج کے آپریشن، حکمت عملی یا حساس معلومات کا ذکر ہوگا، تو اسے پہلے وزارت دفاع کو بھیجنا ہوگا۔ وزارت اس مواد کی جانچ کرے گی اور اس کے بعد ہی اس کی اشاعت کی اجازت دی جائے گی۔ فی الحال ریٹائرڈ افسران کے لیے کتاب لکھنے کے حوالے سے کوئی ایک واضح اور یکساں قانون موجود نہیں ہے۔ لیکن آفیشل سیکرٹس ایکٹ (او ایس اے) کے تحت خفیہ معلومات کو عام کرنا جرم ہے۔ یہ قانون ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نافذ رہتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اپنی جگہ ہے، لیکن قومی سلامتی سے وابستہ معلومات کا تحفظ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے مستقبل میں تنازعات سے بچنے کے لیے واضح قوانین بنائے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

نئے قوانین کیا ہوں گے؟

  • یہ ہدایات حاضر سروس اور ریٹائرڈ دونوں اہلکاروں پر نافذ ہوں گی۔

  • کتاب کی اشاعت سے قبل مسودے کی منظوری کے لیے ایک واضح طریقہ کار طے کیا جائے گا، جس میں وزارت دفاع یا آرمی ہیڈ کوارٹر سے اجازت لینا شامل ہوگا۔

  • موجودہ سروس رولز اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ (او ایس اے) کی دفعات کو شامل کیا جائے گا، تاکہ خفیہ معلومات، آپریشنل تفصیلات، اندرونی طریقہ کار، آلات کی صلاحیت، انٹیلی جنس اِن پٹ یا قومی سلامتی اور غیر ملکی تعلقات سے وابستہ معاملات کو ظاہر کرنے سے روکا جا سکے۔

  • ریٹائرڈ اہلکاروں کے لیے بھی حساس معلومات پر مبنی کتابوں کو تصدیق اور اجازت کے لیے وزارت دفاع کے پاس جمع کرانا لازمی ہوگا۔

  • فرضی کہانیوں (فکشن) میں بھی حقیقی حساس معلومات کا استعمال ممنوع رہے گا۔

  • یہ قوانین قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خفیہ معلومات کے تحفظ کے لیے لائے جا رہے ہیں، کیونکہ فی الحال ایسی کوئی واحد تفصیلی گائیڈ لائن موجود نہیں ہے جو خاص طور پر ریٹائرڈ افسران کی کتابوں کی نگرانی کرتی ہو۔

Published: undefined

پہلے کے اصول سے کتنا مختلف ہوگا؟

  • آرمی رولز 1954 کی دفعہ 21 کے تحت حاضر سروس اہلکاروں کے لیے سیاسی مسائل، سروس کے معاملات یا پیشہ ورانہ معلومات سے متعلق کسی بھی مواد کی اشاعت سے قبل مرکزی حکومت کی پیشگی اجازت لینا لازمی ہے۔

  • سروس رولز اور دفاعی خدمات کی ریگولیٹری باڈی کے تحت چین آف کمانڈ سے تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔

  • ریٹائرڈ اہلکاروں پر آرمی ایکٹ نافذ نہیں ہوتا، لیکن آفیشل سیکرٹس ایکٹ زندگی بھر نافذ رہتا ہے، جو خفیہ معلومات کو ظاہر کرنے کو جرم قرار دیتا ہے۔

  • پنشن رولز میں 2021 کی ترمیم کے تحت انٹیلی جنس یا سیکورٹی اداروں میں کام کرنے والے ریٹائرڈ افسران کو اپنی تنظیم سے متعلق معلومات شائع کرنے سے پہلے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ان کی پنشن روکی جا سکتی ہے یا واپس لی جا سکتی ہے۔

حالانکہ ریٹائرڈ اہلکاروں کے لیے کوئی واضح سروس رولز موجود نہیں ہیں اور وہ ذاتی صوابدید پر منحصر رہتے ہیں۔ عوامی سطح پر دستیاب معلومات یا ذاتی رائے (جیسے سیاست یا قومی سلامتی پر) شائع کی جا سکتی ہے، لیکن حساس معاملات میں اجازت ضروری ہے۔

Published: undefined

اب کیا فرق آئے گا

  • نئے قوانین زیادہ جامع اور واضح ہوں گے، جو ریٹائرڈ اہلکاروں کو بھی سختی سے اپنے دائرہ کار میں لائیں گے، جہاں پہلے قانونی طور پر حالات غیر واضح تھے (کوئی واحد قانون موجود نہیں)۔

  • اس عمل کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا، جیسے مسودہ جمع کرانے کا طریقہ، جبکہ پہلے مختلف طریقوں سے دیکھا یا پرکھا جاتا تھا جس میں غلطی کا امکان زیادہ تھا۔

  • توجہ زیادہ تر قومی سلامتی پر مرکوز ہوگی، اور تضادات کو دور کر کے یکساں طریقہ کار نافذ کیا جائے گا۔

  • حاضر سروس اہلکاروں کے لیے زیادہ تبدیلیاں نہیں ہوں گی، لیکن ریٹائرڈ افسران کے لیے اجازت کا عمل سخت ہو جائے گا، خاص طور پر ایسی کتابوں کے لیے جن میں آپریشنل یا حساس تفصیلات شامل ہوں۔

  • ان نئی ہدایات کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے اور حال ہی میں ایک میٹنگ میں ان پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ یہ متنازع کتابوں کے معاملات میں ابہام کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined